site
stats
سندھ

انسانی فضلے کی آمیزش، رپورٹ کومتنازع بنانے کی کوشش

کراچی : واٹر بورڈ حکام نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ واٹرکمیشن کے رکن غلام مرتضیٰ نے فلٹر پلانٹس اور واٹر ریزروائر سے حاصل کیے گئے نمونے کو درست قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام نے دعوی کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیئے گئے واٹر کمیشن کے رکن غلام مرتضیٰ نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ پانی کے نمونوں میں مضر صحت اجزاء کی آمیزش نہیں تھی۔

واٹر بورڈ ذرائع نے دعوی کیا کہ واٹر کمیشن کے رکن غلام مرتضیٰ نے ہائیڈرنٹس، فلٹر پلانٹس اور واٹر ریزوائر سے حاصل کردہ نمونوں کو انسانی فضلے سے پاک قرار دیتے ہوئے مضرصحت اجزاء کی آمیزش کو یکسر مسترد کردیا تھا۔


 سندھ واٹر کمیشن، راؤ انوار اور ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش


دوسری جانب واٹر کمیشن کے رکن غلام مرتضی نے واٹر بورڈ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ سے منسوب بیان بوگس اور بے بنیاد ہے اور کراچی میں پینےکےپانی سےمتعلق اپنی سابقہ رپورٹ پر قائم ہوں جس میں پینےکے پانی میں انسانی فضلےکی بڑی مقدارپائی گئی تھی اس معاملے کو متنازع بنانے پراپنے تحفظات عدالت کے سامنے پیش کروں گا۔

خیال رہے کہ کراچی میں پانی کی کمی، سپلائی اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے واٹر کمیشن قائم کیا گیا ہے جس کی گزشتہ سماعت میں سندھ بھر سے جمع کیے گئے پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں  *پینے کے پانی میں انسانی فضلے کی آمیزش * کا انکشاف ہوا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top