پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

سندھی کلچر ڈے، اے ٹی سی نے 12 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (08 دسمبر 2025): سندھی کلچر ڈے پر جلاؤ گھیراؤ، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور ریاست مخالف نعروں کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 12 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔

جج نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے، پولیس کو کوئی شرم نہیں، پاکستان بچا کر آئے ہو یا تڑوا کر آئے ہو، تفتیشی افسر کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر پڑھو۔

جج نے تفتیشی افسر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا سندھی ٹوپی اجرک ڈے ریمانڈ پیپر پر لکھتے ہوئے شرم آتی ہے، 144 کی خلاف ورزی ہے، یہ دہشت گردی کہاں سے آ گئی۔ تفتیشی افسرنے کہا ’’میں نے یہ دفعہ نہیں لگائی، مدعی نے لگائی ہے۔‘‘ جج نے جواب میں کہا جس نے لگائی ہے وہ بھی جاہل جو یہاں لایا وہ بھی جاہل ہے۔

پراسیکیوٹر علی رضا نے کہا ریڈ زون میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جج نے استفسار کیا کہ یہ ریلی تو ہر سال نکلتی ہے، ایئر پورٹ کراس کرنے کے بعد کیا ہوا؟ پراسیکیوٹر نے کہا ریاست کے خلاف نعرے بازی کی گئی ہے۔ جج نے پوچھا کہاں ہیں نعرے، صرف زبانی باتیں نہ کریں، اور یہ دہشت گردی کیسے بن گئی، یہ تو اچانک ایک واقعہ ہو گیا ہے۔

ملک گیر ہڑتال : فیکٹریوں، گوداموں اور بندرگاہوں سے لوڈنگ ان لوڈنگ اورمال کی ترسیل بند

جج نے کہا ان کا گاڑیوں کو آگ لگانے کا ارادہ نہیں تھا، یہی بات تو آئی او کہہ رہا ہے، پرامن ریلی سے ملزمان کو گرفتار کر کے ایک جعلی ایف آئی آردرج کر لی، پولیس کی ایف آئی آر بھی مبہم ہے، تفتیشی افسر دہشت گردی کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہیں کر سکا ہے، نہ ہی وہ عدالت کو یہ بتا سکا کہ کوئی سنجیدہ نقصان ہوا ہے۔

جج نے حکم دیا کہ آپ جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس جائیں، یہ تفتیشی افسر نہیں کٹھ پتلی ہے جو کہا جائے گا وہ ہی کرے گا۔

ملزمان پر شارع فیصل بلاک کرنے، نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، ریاست کے خلاف نعرے بازی، پولیس موبائل، ریڈ بس و دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی ہے۔

+ posts

تحقیقاتی صحافت پریقین رکھنے والے فاروق سمیع اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، دہشت گردی، سیاست اورعدالتوں سے منسلک خبروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

اہم ترین

فاروق سمیع
فاروق سمیع
تحقیقاتی صحافت پریقین رکھنے والے فاروق سمیع اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں، دہشت گردی، سیاست اورعدالتوں سے منسلک خبروں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔

مزید خبریں