The news is by your side.

Advertisement

سنگاپور میں اخلاقی جرائم کا مقابلہ کرنے آگیا ہے روبوٹ پولیس اہل کار

سنگاپور: سنگاپور میں اخلاقی جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے اب روبوٹ پولیس اہل کاروں کو میدان میں اتارا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سنگاپور میں اخلاقی جرائم کی روک تھام کے لیے کارروائی اب روبوٹ کرے گا، اس سلسلے میں سنگاپور گشت کرنے والے روبوٹس کی آزمائش کر رہا ہے جو کسی ‘ناپسندیدہ سماجی رویے’ میں ملوث لوگوں کو فوری وارننگ دیں گے۔

ایک دو نہیں اس روبوٹ کی پوری 7 آنکھیں ہیں، جن کی مدد سے یہ روبوٹ اہل کار ہر طرف سے ماحول پر نظر رکھے گا۔

یہ روبوٹ سماجی فاصلے کی کمی، سگریٹ نوشی اور غلط پارکنگ پر فوری جرمانہ کرے گا، اس سے سخت کنٹرول والے اس شہر میں نگرانی والی ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں میں اضافہ ہو جائے گا، جس سے پرائیویسی کے خدشات کو بھی ہوا مل رہی ہے۔

بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمروں سے لے کر چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی سے لیس لیمپ پوسٹس کے ٹرائلز تک، سنگاپور اپنے باشندوں پر ہر لمحے نظر رکھنے کے لیے آلات کی بھرمار کر رہا ہے۔

اور اب ستمبر میں تین ہفتوں کی آزمائش کے لیے ایک ہاؤسنگ اسٹیٹ اور ایک شاپنگ سینٹر میں گشت کے لیے 2 روبوٹس تعینات کیے گئے تھے۔

حکام طویل عرصے سے ایک انتہائی مؤثر، ٹیکنالوجی سے چلنے والی ‘اسمارٹ قوم’ کے وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں، تاہم ایکٹویسٹس کا کہنا ہے کہ اس سارے سلسلے میں لوگوں کی رازداری کو قربان کر دیا گیا ہے، اور لوگوں کا ان کے اپنے ڈیٹا پر بہت کم کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

حکومت نے اب تازہ ترین نگرانی کے آلے کے طور پر روبوٹ پہیے متعارف کرا دیے ہیں، جو سات کیمروں سے لیس ہیں، اور جو عوام کو انتباہ جاری کرتے ہیں اور ‘ناپسندیدہ معاشرتی رویے’ کا پتا لگاتے ہیں۔

ایک حالیہ گشت کے دوران ایک ‘زاویئر’ روبوٹ ایک ہاؤسنگ اسٹیٹ سے گزرتے ہوئے شطرنج کا میچ دیکھنے والے بزرگ باشندوں کے ایک گروپ کے سامنے رک گیا۔ پھر اچانک ایک روبوٹک آواز نے سب کو چونکایا جو کہہ رہی تھی کہ براہ کرم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں، براہ کرم ہر گروپ میں پانچ افراد رکھیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس روبوٹ کو دیکھ کر انھیں ‘روبو کوپ’ فلم یاد آ گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں