The news is by your side.

Advertisement

سنگاپور : ایک دوسرے سے فاصلہ نہ رکھنے پر 6 ماہ قید کی سزا

سنگا پور : تیزی سے پھیلنے والے جان لیوا کرونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے سنگا پور حکومت نے قانونی طور پر دو افراد یا اس سے زائد کے ایک ساتھ کھڑے ہونے پر سخت پابندی عائد کردی ہے، خلاف ورزی کرنے پر چھ ماہ کی جیل کاٹنا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جن احتیاطی تدابیر پر سب سے زیادہ زور دیا جارہا ہے ان میں ہاتھ دھونے اور چہرے کو چھونے سے گریز کے ساتھ ساتھ سماجی رابطوں میں فاصلہ قابل ذکر ہے۔

لوگوں میں فاصلہ برقرا رکھنے اور اس وبا پر قابو پانے کیلئے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤں اور کرفیو جیسے اقدامات اٹھائے گئے لیکن شہریوں کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر انتظامیہ مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہے۔

اس سلسلے میں سنگاپور حکومت نے کرونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے ملک میں نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جن کے تحت ارادتاً کسی شخص کے نزدیک کھڑے ہونے پر بھی چھ ماہ تک کی قید ہو سکتی ہے۔

کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر سنگا پور حکومت نے سنگاپور نے یہ اقدام گزشتہ روز کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر کیا ہے، وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام سینما ہالز اور بار بند کر نے کے احکامات اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سماجی فاصلے پر عمل درآمد یقینی کیلئے یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ قائم رکھیں۔

نئے قوانین کے مطابق کسی بھی عوامی مقام پر بیٹھنے کی جگہوں یا پارک وغیرہ میں نصب بنچوں پر بیٹھتے ہوئے بھی ایک میٹر کا فاصلہ قائم رکھنا ہوگا۔

اگر کہیں کرسیاں نزدیک بھی رکھی گئی ہوں تو ایک کرسی کا فاصلہ رکھ کر بیٹھا جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھ ماہ قید یا سات ہزار امریکی ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے

مزید پڑھیں: سنگاپور میں مفت ہینڈ سینی ٹائزر تقسیم کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ سنگاپور میں تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں اور ان کی بندش میں توسیع پر غور کیا جارہا ہے جبکہ وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ورنہ ملک کو لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں