ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

یادِ رفتگاں: مالا بیگم کے گائے ہوئے فلمی گیت آج بھی مقبول ہیں

اشتہار

حیرت انگیز

برصغیر میں گلوکاروں کی خوب صورت دھنک مالا میں گلوکارہ مالا بھی فلموں کے لیے اپنی آواز کا جادو جگا کر مشہور ہوئیں۔ ان کی آواز میں کئی گیت بہت مقبول ہوئے اور مالا کی مدھر اور رسیلی آواز پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی پسند کی گئی۔ پاکستانی فلم کا ایک گیت بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول ہیں ’’دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے۔‘‘ گلوکارہ مالا کو اس گیت پر نگار ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔

مالا کی آواز میں مذکورہ سدا بہار گیت 1963ء کی فلم ’’عشق پر زور نہیں‘‘ میں شامل تھا۔ اس فلمی گیت کے شاعر تھے قتیل شفائی۔ بطور فلمی گلوکارہ مالا نے معروف موسیقار ماسٹر عبداللہ کی فلم ’’سورج مکھی‘‘ سے اپنا کیریئر شروع کیا تھا۔ یہ 1962ء کی بات ہے۔ مالا کا اصل نام نسیم نازلی تھا۔ فلمی موسیقار شمیم نازلی ان کی بڑی بہن تھیں اور وہی نسیم کی فنِ موسیقی میں اوّلین استاد بھی تھیں۔ نسیم نازلی نے فن کی دنیا میں ’’مالا‘‘ کے نام سے شہرت پائی۔ وہ 9 نومبر 1942ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ انھوں نے دو شادیاں کی تھیں اور دونوں ہی ناکام رہیں۔ مالا نے فلم کے لیے المیہ اور طربیہ دونوں طرح‌ کے گیت گائے اور اسی طرح اردو اور پنجابی زبانوں میں‌ بھی گیت ریکارڈ کروائے۔ 1965ء میں فلم ’’نائلہ‘‘ کے گیت ’’اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی جا اور محبت کی پگلی‘‘ پر انھیں دوسری مرتبہ نگار ایوارڈ دیا گیا۔

گلوکارہ مالا نے اپنے وقت کے بڑے اور نام ور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا اور آخری مرتبہ ان کی آواز میں فلم ہنڈریڈ رائفلز کے لیے نغمات ریکارڈ کیے گئے تھے جو 1981ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ مالا بیگم نے فلم ارمان، احسان، دوراہا، دل میرا دھڑکن تیری، ہمراز، پھول میرے گلشن کا، پردہ نہ اٹھاؤ، فرنگی، انسانیت، مسٹر بدھو، ہل اسٹیشن، مہمان، اک نگینہ، سنگ دل اور چھوٹے صاحب نامی فلموں کے لیے گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔ مالا نے کئی گلوکاروں کے ساتھ دو گانے بھی ریکارڈ کروائے تھے۔

مالا بیگم 1990ء میں آج ہی کے روز لاہور میں انتقال کرگئی تھیں۔ ان کے قبر کے کتبے پر تاریخِ وفات 5 مارچ درج ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں