The news is by your side.

Advertisement

کوروناوائرس کی نئی قسم کے خطرناک تیور، ماہرین چکرا گئے

سائنسی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی ادویہ ساز کمپنی کی تیار کردہ ‘سینوویک’ ویکسین برازیل میں دریافت ہونے والی کوروناوائرس کی نئی قسم کے خلاف غیر مؤثر ہوگی۔

طبی تحقیق کے مطابق دوا ساز کمپنی سینوویک بائیوٹیک میں تیار ہونے والی ‘سینوویک ویکسین’ ممکنہ طور پر برازیلین کورونا قسم کے خلاف اثر انداز نہیں ہوگی، مشاہدے سے پتا چلا کہ یہ ویکسین نئی قسم کے خلاف خاطر خواہ اینٹی باڈیز پیدا نہیں کر پاتیں۔ دنیا بھر میں وبا کی نئی اقسام نے ماہرین کے لیے پریشانی کھڑی کردی ہے۔

طبی جریدے ‘پیر روویو’ میں شایع اس مختصر تحقیق میں ماہرین نے سینوویک ویکسین لگوانے والے 8 مریضوں کے پلازمہ کے نمونے لیے اور ان پر تجزیہ کیا۔

یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ برازیلین کورونا قسم ‘پی1’ پر یہ ویکسین اثر کرتی ہے یا نہیں، بدقسمی سے محققین نے دیکھا کہ سینوویک ویکسین وبا کی نئی قسم کو ختم نہیں کرسکی۔

کیا کرونا وائرس کی نئی قسم ویکسینز کو بیکار کرسکتی ہے؟

تحقیقی رپورٹ تیار کرنے میں برازیل کے ساؤ پالو یونیورسٹی، امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور کچھ دیگر اداروں کا مشترکہ تعاون رہا۔ مشاہدے کے نتائج کے بعد ماہرین تشویش کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے بعد برازیل، امریکا اور جنوبی افریقا میں کرونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے پر جہاں ایک طرف دنیا نئے سرے سے خوف میں مبتلا ہوگئی ہے، وہیں اب تک کی تیار کی گئی ویکسینز پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا کہ آیا یہ ویکسینز نئی قسم کے خلاف مؤثر ثابت ہوں گی۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی اقسام کے خلاف موجودہ ویکسیز کو اپڈیٹ کرنا ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں