ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

شیخ عبدالقادر: مشہور قانون داں اور محسنِ اردو

اشتہار

حیرت انگیز

سَر شیخ عبدالقادر کا نام برطانوی دور کے ہندوستان میں‌ ایک قابل و باصلاحیت قانون داں، اہلِ قلم اور صحافی کے طور پر مشہور تھا جنھیں ناقدین نے جدید ادب کا محسن بھی کہا ہے۔ شیخ عبدالقادر کو شاعرِ مشرق علامّہ اقبال اور سرسیّد احمد خان جیسے اکابرین نے بھی سراہا ہے۔

9 فروری 1950ء کو سَر عبدالقادر شیخ وفات پاگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ شیخ عبد القادر ایک بہترین مدیر، محقق، مقالہ و انشائیہ نگار اور مترجم کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے تھے۔ قابلِ‌ ذکر بات ہے کہ سَر شیخ عبدالقادر ہی وہ شخصیت ہیں‌ جنھوں نے علامہ اقبالؔ کے اوّلین مجموعے ’’بانگِ درا‘‘ کا دیباچہ تحریر کیا تھا۔ ہندوستان کے تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی راہ نما سَر عبدالقادر شیخ کی ذہانت اور خوبیوں کے معترف تھے۔ انھیں اردو زبان سے بڑا لگاؤ تھا اور اس زمانے میں‌ وہ اردو کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش رہے۔

سَر شیخ عبدالقادر 15 مارچ 1874ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے سَرسیّد احمد خان کی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ 1898ء میں پنجاب کے پہلے انگریزی اخبار آبزرور کی ادارت سنبھالی اور 1901ء میں ادبی جریدہ مخزن جاری کیا۔ دنیائے ادب میں مخزن کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ پہلی بار اس جریدے میں علامہ اقبال کی نظمیں شایع ہوئیں۔ 1904ء میں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان چلے گئے۔ 1907ء میں امتحان پاس کرکے انڈیا لوٹے تو پہلے دہلی اور بعد میں لاہور میں وکالت کا سلسلہ شروع کیا۔ سَر جلال الدّین، ان کے لاہور میں استقبال کی روداد یوں بیان کرتے ہیں کہ شیخ صاحب علامہ اقبال سے پہلے بیرسٹری پاس کر کے لاہور آ گئے۔ لاہور میں انھیں شاندار انداز میں خوش آمدید کہا گیا، بہت بڑا استقبالیہ جلوس نکالا گیا۔ ایسے مناظر کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ انگریز افسران بھی بہت متاثر نظر آتے تھے۔ اگلے روز گورنمنٹ ہاؤس میں ایک پارٹی تھی، ہم نے شیخ صاحب کو بھی دعوت نامہ بھجوا دیا۔ پارٹی میں موجود چیف کورٹ نے مجھ سے پوچھا کل لاہور میں کون شخص وارد ہوا ہے کہ جس کے استقبال کی گونج مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ میں نے کہا ابھی ملوائے دیتا ہوں، ان کی ملاقات شیخ صاحب سے کراتے ہوئے کچھ تعارفی کلمات بھی کہے، جن کی متقاضی شیخ صاحب کی ذات تھی۔ چیف صاحب نے مسکرا کر کہا، شیخ صاحب آپ کا استقبال آپ کے شایانِ شان ہوا۔

1921ء میں شیخ صاحب ہائی کورٹ کے جج بنے اور 1935ء میں پنجاب کے وزیرِ تعلیم کا منصب سنبھالا۔ 1939ء میں انھیں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بنایا گیا اور 1942ء میں سر شیخ عبدالقادر بہاولپور میں چیف جج کے منصب پر فائز ہوئے۔

وہ لاہور کے میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں