The news is by your side.

Advertisement

پاﺅں نیچے کرلیجیے!

سرسیّد احمد خان عمر میں مولوی نذیر احمد سے بیس بائیس سال بڑے تھے اور عوام کے علاوہ انگریز حکام میں بھی بہت معزّز تھے۔

مولوی نذیر احمد بھی ان کی بڑی عزت کرتے اور دامے درمے، قدمے سخنے ان کی مدد کرتے رہتے تھے۔

ایک دفعہ علی گڑھ کالج کے ایک ہندو محاسب نے لاکھوں روپے کا غبن کیا اور کالج جاری رکھنا محال ہوگیا۔

یہ سُن کر مولوی نذیر احمد دلّی سے علی گڑھ پہنچے اور ہر طرح سے ان کی ڈھارس بندھائی۔ اور بولے ”اگر روپے کی ضرورت ہو تو یہ اس وقت موجود ہے، لے لو اور بھی دوں گا اور اگر کسی خدمت کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔“ سرسیّد اس پُرخلوص پیش کش سے بے حد متاثر ہوئے۔

اس زمانے میں مولوی نذیر احمد کے دو نواسے مشرف الحق اور اشرف الحق علی گڑھ میں پڑھتے تھے۔

اشرف الحق نے بتایا کہ ”نانا ابّا نے ہمیں سیّد صاحب کے کمرے میں بلوایا تو ہم نے دیکھا کہ ان کے پاﺅں میں بوٹ ہیں اور وہ ٹانگیں میز پر سرسیّد کی طرف کیے نہایت بدتمیزی سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اشرف نے چپکے سے ان سے کہا۔ ”نانا ابّا پاﺅں نیچے کرلیجیے۔“

اس پر وہ بولے۔ ”یہ انہی کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔“ اور سرسیّد ہنس پڑے۔

(شاہد احمد دہلوی کی کتاب گنجینۂ گوہر کا ایک ورق)

Comments

یہ بھی پڑھیں