The news is by your side.

Advertisement

مہذب قوم

چھوٹا بچّہ اپنے سے بڑے لڑکے کی باتوں کی پیروی کرتا ہے اور کم سمجھ والا اس کی جس کو وہ اپنے سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہے اور ناواقف اس کی جس کو وہ اپنے سے زیادہ واقف کار جانتا ہے۔

اسی طرح نامہذب قوم کو تہذیب یافتہ قوم کی پیروی کرنی ضرور پڑتی ہے، مگر بعض دفعہ یہ پیروی ایسی اندھا دھند ہوتی ہے جس سے بجائے اس کے کہ اس پیروی سے فائدہ اٹھاویں، الٹا نقصان حاصل ہوتا ہے اور جس قدر ہم نامہذب ہوتے ہیں اس سے اور زیادہ ناشائستہ ہوتے جاتے ہیں۔

نامہذب آدمی جب تربیت یافتہ قوم کی صحبت میں جاتا ہے تو ان لوگوں کو بہت عمدہ پاتا ہے اور ہر بات میں ان کو کامل سمجھتا ہے، ہر جگہ ان کی تعریف سنتا ہے مگر ان میں جو خراب عادتیں ہیں ان کو بھی دیکھتا ہے۔ مثلا ً شراب پینا، جوا کھیلنا وغیرہ۔ پس یہ شخص ان باتوں کو بھی ان کے کمالوں ہی میں تصور کر لیتا ہے۔ ان میں جو خوبیاں اور کمالات درحقیقت ہیں ان کو تو وہ حاصل نہیں کرتا اور نہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر جو بری باتیں ان میں ہیں ان کو بہت جلد سیکھ لیتا ہے۔

ایسا کرنا درحقیقت اس آدمی کی غلطی ہے کہ اس نے ان کے نقصوں کو ان کا کمال سمجھا ہے۔ وہ لوگ بسبب کسی دوسرے کمال و لیاقت اور خوبی کے جو ان میں ہے اور بسبب دوسری عمدہ خصلتوں کے جو انہوں نے حاصل کی ہیں، مہذب و شائستہ کہلاتے ہیں، نہ بسبب ان باتوں کے جن کو اس نے سیکھا ہے۔ بلاشبہ مہذب آدمیوں کی برائیاں ان کی بہت سی خوبیوں اور کمالوں کے سبب چھپ جاتی ہیں اور لوگ ان پر بہت کم خیال کرتے ہیں، تاہم وہ برائیاں کچھ ہنر نہیں ہو جاتیں، بلکہ جو برائی ہے وہ برائی ہی رہتی ہے، گو کہ ایک مہذب قوم ہی میں کیوں نہ ہو۔

ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی قوم گو وہ کیسی ہی عمدہ اور مہذب ہو، مگر جو برائیاں اس میں ہیں وہ اس کے وصف نہیں ہیں، بلکہ ان کے کمال کی کمی ہے جس کی پیروی ہم کو کرنی نہیں چاہیے۔ اگر ایک خوب صورت آدمی کے منہ پر ایک مسّا ہو توہم کو خوب صورت بننے کے لیے ویسا ہی مسّا اپنے منہ پر نہ بنا نا چاہیے کیونکہ وہ مسّا اس کی خوب صورتی کا نقصان ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو یہ خیال کرنا مناسب ہے کہ اگر یہ مسّا بھی اس کے منہ پر نہ ہوتا تو کتنا اور خوب صورت ہو جاتا۔

ہم بلاشبہ اپنی قوم کو اپنے ہم وطنوں کو سولائزڈ قوم کی پیروی کی ترغیب کرتے ہیں، مگر ان سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان میں جو خوبیاں ہیں اور جن کے سبب وہ معزز اور قابل ادب سمجھی جاتی ہیں اور سولائزڈ شمار ہوتی ہیں ان کی پیروی کریں، نہ ان کی ان باتوں کی جو ان کے کمال میں نقص کا باعث ہیں۔

اسی سبب سے جب کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری قوم نے کسی سولائزڈ قوم کی عمدہ خصلتوں اور عادتوں میں پیروی کی تو ہم کو بہت خوشی ہوتی ہے اور جب یہ سنتے ہیں کہ اس نے ان کی برائیوں کی پیروی کی اور شراب پینی شروع کی اور پکا متوالا ہوگیا اور جوا کھیلنا سیکھا اور بے قید ہو گیا تو ہم کو نہایت افسوس ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری قوم عمدہ باتوں کو سیکھے گی اور بری باتوں کو ہمیشہ برا سمجھے گی۔

(سرسیّد احمد خان کے مضامین سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں