The news is by your side.

Advertisement

سرسیّد احمد خان اور "آہی”!

سرسید احمد خان کو برصغیر میں ایک مصلحِ قوم، بیدار مغز سیاسی راہ نما مانا جاتا ہے۔ انھوں نے بامقصد ادب تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کے ذریعے بھی مسلمانانِ ہند کی نظریاتی، فکری تربیت اور برصغیر میں اس وقت کی سیاست اور تبدیلیوں سے باخبر رکھا جب کہ تعلیم کی اہمیت اور خاص طور پر مسلمانانِ ہند کے لیے اس کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

علی گڑھ کا قیام اور ان کی دیگر علمی اور ادبی خدمات سے سبھی واقف ہیں۔ سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح اور کردار سازی کے علاوہ انھیں بیدار کرنے کے لیے اپنے قلم کو بھی متحرک رکھا، اور ہم انھیں مضمون نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ تاہم وہ شاعر بھی تھے۔

اس بارے میں مقالاتِ شبلی (مولانا شبلی نعمانی) سے چند سطور پیشِ خدمت ہیں۔

"اوؑل وہ رواجِ عام کے اقتضا سے شاعری کے میدان میں آئے، "آہی” تخلص اختیار کیا اور اردو میں ایک چھوٹی سی مثنوی لکھی، جس کا ایک مصرع انھی کی زبانی سنا ہوا مجھے یاد ہے۔

"نام میرا تھا کام ان کا تھا۔۔۔۔”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو شاعری سے مناسبت نہ تھی، اس لیے وہ بہت جلد اس کوچہ سے نکل آئے، اور نثر کی طرف توجہ کی۔

چوں کہ حقائق اور واقعات کی طرف ابتدا سے میلان تھا، اس لیے دلی کی عمارتوں اور یادگاروں کی تحقیقات شروع کی، اور نہایت محنت و کوشش سے اس کام کو انجام دے کر ایک مبسوط کتاب لکھی جو ”آثار الصنادید” کے نام سے مشہور ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں