The news is by your side.

Advertisement

انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے نوازشریف کرسی چھوڑ دیں، سراج الحق

لاہور : امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے نوازشریف کرسی چھوڑ دیں، ساٹھ روز کیلئے کسی اور کو وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے، پاناماکیس میں پانچ رکنی بینچ نے وزیراعظم کوبری نہیں کیا۔

لاہور میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے موقع پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاناماکیس میں 5رکنی بینچ نے وزیراعظم کو بری نہیں کیا،  پانچ میں سے دو ججوں نے کلئیر کیا ہے کہ وزیر اعظم امین اور صادق نہیں رہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے نوازشریف کرسی چھوڑ دیں۔

سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کرپشن کیخلاف ہمیشہ جدوجہد کی، کرپشن کیخلاف جماعت اسلامی کی مہم کو نتیجہ خیز بنانا ہے، سپریم کورٹ نے کلیئر کیا تو نوازشریف پھروزیراعظم بن سکتے ہیں، احتساب کے لئے  ہماری تحریک جاری رہے گی،  کرپشن ،قرض معاف کرانے والے سب کااحتساب چاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کرپشن اور پاکستان اب ساتھ نہیں چل سکتے ہیں، کرپشن کی وجہ سے ہمارے بچے تعلیم، روزگار سے محروم ہیں، کرپشن کے خلاف لڑائی، چوک اور چوہراہوں، ایوانوں میں بھی لڑیں گے۔


مزید پڑھیں : استعفیٰ دے کر ماحول پیدا کرنے میں ہی نوازشریف کی عزت ہے، سراج الحق


امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو ملزم نامزد کردیا ہے، عدالت نے کہا ہے وزیراعظم کے بیانات، دستاویزات مشکوک ہیں، مٹھائی کھانے پرپابندی نہیں،مگراتنی کھانے سے شوگربھی ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ چھوٹے گریڈ کا افسر بڑے گریڈ کے افسر کیخلاف کیسے تحقیقات کرسکتا ہے، استعفیٰ دے کر ماحول پیدا کرنے میں ہی نوازشریف کی عزت ہے، نوازشریف کوکلین چٹ ملےتو دوبارہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ ججز نے واضح کہا کہ یہ صادق اور امن نہیں رہے، پہلی بار سپریم کورٹ نے وزیراعظم کوغیر شفاف قرار دیا، ججز نے واضح کہا کہ نوازشریف ایماندار نہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے شفاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم استعفیٰ دیں ، عدات نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی دستاویزات درست نہیں، فیصلہ یقینی طور پر منزل نہیں، کامیابی کی طرف پیش قدمی ہے، استعفیٰ دے کر ماحول پیدا کرنے میں ہی نوازشریف کی عزت ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک  وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں