site
stats
پاکستان

کرپٹ افراد کے پاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھنا چاہتےہیں، سراج الحق

لاہور : امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں آنیوالے افراد کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھنا چاہتےہیں، ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے قانون سازی ہونی چاہئیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور مال روڈ مسجد شہداء سے چیئرنگ کراس تک جماعت اسلامی کے زیر اہتمام عزم احتساب مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم کے اثاثے ان کی آمدنی سے زیادہ تهے، اس لئے انہیں صادق امین نہ ہونے کی بنا پر نااہل کیا گیا، حکمران جماعت کو عدالتی فیصلہ قبول کرنا چاہیئے تها لیکن وہ مسترد کر رہے ہیں، نوازشریف سے متعلق عدالت کے فیصلے کو قوم نے سراہا۔

انہوں نے کہا کہ میرا مسئلہ صرف نواز شریف نہیں، وہ سب لوگ ہیں جن کی وجہ سے غریب کو حق نہیں مل رہا، جنہوں نے قوم کو لوٹا ہے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں سب کا احتساب چاہتے ہیں۔

پاناما اسکینڈل میں436لوگوں کا نام لیکر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، پانامہ اسکینڈل میں حکمران ہیں، دیگر سیاستدان، جج ، بیوروکریٹ ہیں یا جنرل سب کا احتساب ہونا چاہیئے۔

سراج الحق نے کہا کہ یہ فیصلہ آخری نہیں ہونا چاہیئے، کسی نے سیاہ جهنڈا اٹهایا ہو یا سفید، سب کا احتساب چاہتے ہیں، میری لڑائی کسی پارٹی سے نہیں یا کسی بیمار سے نہیں، میری لڑائی ان سے ہے جنہوں نے ملک کو بدنام کیا ہے۔

آئین کی شق 62اور63 کا خاتمہ نہیں ہونے دیں گے

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ آئین کی شق 62، 63 کا خاتمہ چاہتے ہیں، جس کے تحت صرف صادق اور امین اسمبلی ممبر ہو سکتا ہے، غیرمسلم ممالک میں بهی دیانتدار اور امین ہونے کی شرط ہے تو یہ مسلمان ملک کے آئین سے نکال رہے ہیں، کل آپ پاکستان کے آئین سے وزیراعظم اور صدر کیلئے مسلمان کی شرط بهی ختم کریں گے۔

یہ پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے، اگر 62، 63 کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام کا ہاتھ ان کے گریبان پر ہو گا، وزیراعظم کے انتخاب میں اپوزیشن متفقہ امیدوار دے ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ حزب اختلاف تقسیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سومنات کے مندر پر یہ پہلہ حملہ ہے، ہم سترہ حملے کر کے کرپشن کے ہر بت کو پاش پاش کریں گے، میرا ایجنڈا نواز شریف کو ہٹانا نہیں کرپشن مافیا کا احتساب ہے، اشرافیہ اور کرپٹ مافیا کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دو اگست کو مرکزی مجلس شوری کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئندہ کی حکمت عملی دوں گا، میں جهکنے اور ڈرنے والا نہیں، میں سیاست اور صرف سیاست نہیں اصلاح چاہتا ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top