The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم بنا تو شہزادوں کی طرح نہیں رہوں گا، سراج الحق

ظفروال : امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن سے پاک پاکستان کے خواہاں ہیں چنانچہ ہم نے سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز میں موجود تمام 436 پاکستانی افراد کے احتساب کی درخواست دی ہے اور کرپشن میں ملوث افراد کو آئندہ الیکشن میں حصہ سے روکنے کی اپیل کی ہے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ظفر وال میں جماعت اسلامی کے تحت منعقد کردہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کو تقسیم کر کے حکمران ہم پر مسلط رہنا چاہتے ہیں لیکن میں چوروں اور لٹیروں سے عوام کی جان چھڑانا چاہتا ہوں.

حکومت امریکا کے وفاداروں کے ہاتھوں میں ہے

سراج الحق نے کہا کہ حکومت امریکا کے وفاداروں کے قبضےمیں ہے اور یہ جمہوریت شہزادوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں 70 سال سے حقیقی جمہوریت نہیں آئی ہے چند خاندان قابض ہیں چنانچہ جب تک غریب اور متوسط طبقے کے نمائندے ایوان میں نہیں پہنچتے حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی.

ملک پر کسانوں، مزدوروں اور عام عوام کا راج ہونا چاہیے

امیر جماعت سراج الحق نے کہا کہ سیاست دانوں کے روپ میں ظالم طبقہ ہم پر مسلط ہے جو عوام کے نہیں اپنے مسائل حل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم زہرآلود پانی پیتے ہیں اور دوائی کے نام پرزہرکھاتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ملک پر کسانوں، مزدوروں اور عام عوام کا راج ہونا چاہیے لیکن موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں آپ کو موقع نہیں ملے گا چنانچہ آج نوجوان ڈگریاں جلانے پر مجبور ہیں اور ملک کا محنتی کسان و مزدور سارا دن محنت کے بعد بھی بھوکا سوتا ہے.

لڑائی فرد سے نہیں نظام سے ہے 

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری لڑائی ایک فرد سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے اور یہ نظام چند خاندانوں کو مضبوط کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی نے بار بار حکومتیں بنائیں جن کے ساتھ چند خان، نواب، وڈیرے اور چوہدری اپنی پارٹیاں، رنگ اور جھنڈے بدل بدل کر جس کی حکومت ہوتی ہے اس سے آن ملتے ہیں.

کراچی سے چترال تک اردو مادری زبان ہوگئی

 سراج الحق نے کہا کہ چین، جاپان اور ملائیشیا نے اپنی قومی زبان میں ترقی کی لیکن 70 سال بعد بھی حکمرانوں نے ہمیں قومی زبان نہیں دی گئی حالانکہ ہر قوم کی زبان اس کی عزت ہوتی ہے لیکن ہمارے حکمران اردو کو سرکاری زبان بنانے کو تیار نہیں، میں پوچھتا ہوں کہ کیا کسی انگریزی عدالت میں ہماری زبان چلتی ہے ؟

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں حکومت ملی تھی تو وہاں اردو اور پشتو کو سرکاری زبان بنایا تھا اور اگر وفاق میں بھی ہمیں خدمت کا موقع ملا تو کراچی سے چترال تک اردو مادری زبان  ہو گی اور اردو کے فروغ و نفاذ کے لیے ہر اقدام کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو کو انگریزی کے مقابلے میں لاکھڑا کریں گے.

وزیراعظم بنا تو وہاں نہیں رہوں گا جہاں شہزادے رہتے ہیں

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ میرے اور میری جماعت کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے اور نہ جماعت کے کسی رہنما، کارکن یا سینیٹرکا نام پاناما میں آیا ہے اور نہ ہی ہماری جماعت کے کسی فرد نے قرضے لے کر ہڑپ کیے ہیں اور اگر میں وزیراعظم بن بھی گیا تو وہاں نہیں رہوں گا جہاں شہزادے رہتے ہیں.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں