site
stats
پاکستان

امریکا سے ایک کلرک بھی آئے تو والہانہ استقبال کیا جاتا ہے، سراج الحق

siraj ul haq

پشاور : امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کو نیک، ایماندار اورمخلص قیادت کی ضرورت ہے موجودہ حکمرانوں نے قوم کو بھوک، پیاس اور لوڈشیڈنگ کے سوا کچھ نہیں دیا.

وہ ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دنیا حیران ہے 5 دریاؤں کے باوجود ہم لوڈ شیڈنگ کے مارے ہیں کیوں ہمیں نقصان کرپشن نے پہنچایا ہے یہ ملک غیرب نہیں بلکہ یہاں معاشی کرپشن ہو رہی ہے.

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ المیہ ہے لوگوں کو اپنی حکومت پراعتماد نہیں اور حکومت کا کوئی بھی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا بدامنی اور حقوق نہ ملنےکی وجہ سےڈپریشن کی بیماری عام ہوگئی ہے.

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان دنیا میں صحت و تعلیم سے متعلق 163ویں نمبر پر ہے کیوں کہ تعلیم کا بجٹ صرف 3 فیصد ہے باوجود اس کے کہ حکومت ہر شہری پرسالانہ 111 روپے خرچ کرتی ہے دوسری طرف  پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں کیوں کہ بجٹ کا بیشتر حصہ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے.

سراج الحق نے کہا کہ بد قسمتی سے تعلیم اور صحت حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں اور انصاف عام لوگوں کی پہنچ سے کوسوں دور ہے، جہاں انصاف کے دروازے بند ہوں وہاں ڈپریشن کی بیماری عام ہوتی ہے.

انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں بدامنی ہے اور ہنرمند و با صلاحیت نوجوان ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا مقروض ہے اور پیسہ نہ ہونےکی وجہ سےعام آدمی کو معیاری علاج اور تعلیم دستیاب نہیں.

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکا کا ایک وزیر ہمیں ایسے حکم دیتا ہے جیسے ہم ان کےغلام ہیں، میں کہتا ہوں کہ امریکا ہمیں ایڈوائس نہ دے ہمیں تمہارے قرضوں کی ضرورت نہیں.

سراج الحق نے کہا کہ امریکا کا ایک نوکر بھی خود کو پاکستان آ کر وائسرائے سمجھتا ہے اور افسوس ہے وزیراعظم نے امریکا کے ایک وزیر کا والہانہ استقبال کیا،عالم یہ ہے کہ امریکا ایک کلرک بھی بھیجے تو ہمارا وزیراعظم انہیں پروٹوکول دیتا ہے.

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن کسان پھر بھی بھوکا سوتا ہے پاکستان میں کمزوروں کا کوئی والی وارث نہیں ہے حالانکہ کمزورآدمی کی وکالت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے.

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر یومیہ 12 ارب روپے کی کرپشن روک دی جائے تو عوام کو ہرسہولت فراہم ہوسکے گی لیکن  حکمرانوں کے پاس اپنے خاندانوں کےعلاوہ کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں ہے یہ وہ حکمران ہیں جنہوں نے 375 بلین ڈالرز سوئس اکاونٹس میں چھپا رکھے ہیں.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top