The news is by your side.

Advertisement

کرنل جوزف نے پاکستانی شہری کو قتل کیا مگر مقدمہ درج نہ ہوسکا: سراج الحق

کراچی: جماعت اسلامی کے امیر اور سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانے میں تعینات کرنل جوزف نے پاکستانی شہری کو شہید کی لیکن افسوس کے مقدمہ تک درج نہ ہوسکا۔

کراچی میں خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملکی نظام میں چالاکی اور ملاوٹ شامل ہے شاید اس لیے انصاف کا حصول ناممکن ہے، کرنل جوزف نے پاکستانی شہری کو شہید کیا لیکن ایف آئی آر تک درج نہیں ہوسکی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کی وجہ دریافت کی تو کہا گیا کہ سفیر اور عملے کو استثنیٰ حاصل ہے۔

خیال رہے کہ 8 اپریل کو اسلام آباد کے رہائشی نوجوان عتیق کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب امریکی سفارت کار کرنل جوزف مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔

امریکی سفارت کار کی گاڑی سے شہری کی ہلاکت، والد کی عدالت میں درخواست

امریکی شہری کو نشے کی حالت میں ٹریفک اشارہ نہ دکھا اور اُس نے گاڑی بھگا دی جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار اسلام آباد کے شہری کو زور دار ٹکر لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

واقعے کے تھوڑی دیر بعد ایک اور گاڑی سفارتکار کو لینے پہنچی جبکہ جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکاروں نے امریکی سفارت کار کا میڈیکل چیک اپ کروانے کی کوشش کی تو سفارتی عملے نے اپنی شناخت ظاہر کی جس کے بعد پولیس اہلکار مجبوراً کوئی ایکشن نہ لے سکے۔

امریکی سفارت کار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق فیصلہ محفوظ

بعد ازاں دفتر خارجہ نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو طلب کر کے واضح کیا کہ شہری کی ہلاکت کے معاملے پر پاکستان کے قانون اور ویانا کنونشن کے مطابق عمل کیا جائے گا، امریکی سفیر نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر کرنل جوزف کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کے بعد اس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی منسوخ کردیا جبکہ بے گناہ پاکستانی نوجوان کا قاتل نے تاحال اسلام آباد میں موجود امریکی سفارتخانے میں پناہ لے رکھی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں