The news is by your side.

Advertisement

سرکپ، قدیم نوادرات کی چوری، تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ

ٹیکسلا : عالمی ثقافتی ورثہ سے متعلق لاکھوں مالیت کے نوادرات چوری ہونے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اپنی رپورٹ محکمہ آثار قدیمہ کو پیش کرے گی.

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے سرکپ میں واقع اطلس مندر کے مشرقی حصے کی رہائشی عمارت کی باقیات سے گھاس ہٹانے کے دوران کچھ مزدوروں کو بالیاں، چوڑیاں، نِکل اور دیگر چھوٹے سونے کے زیورات ملے تھے جنہیں بعد ازاں غائب کردیا گیا تھا.

تحقیقاتی کمیٹی ٹیکسلا کے جڑواں شہر کے طور پر مشہور سرکپ میں قائم میں عجائب گھر میں موجود 1980 میں ثقافتی تنظیم ( یونیسکو) کی جانب سے محفوظ قرار دیئے گئے ثقافتی ورثہ کی چوری ہونے اور ملزمان و ذمہ داروں کا تعین کرے گی.

کمیٹی کے خدوخال کے حوالے سے تاحال کام جاری ہے تاہم کمیٹی کے سربراہ کے لیے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹرز میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا جس کے لیے کمیٹی کے آئینی جواز پر بھی کام کیا جا رہا ہے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکپ میں آثار قدیمہ کے نوادرات کو محفوظ کیا جانے کا کام جاری تھا تاہم تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس عمل کے دوران محکمہ آثار قدیمہ کے ماہرین موجود نہیں تھے، اس غفلت کا تعین کرنا بھی بہت ضروری ہے.

دوسری جانب پولیس نے سرکپ میں نوادرات کو محفوظ بنانے کے دوران کام میں مشغول چھ مزدوروں کو حراست میں لے کر تفتیش کا عمل شروع کردیا ہے تاہم گرفتاری کے وقت مزدوروں سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی تھی.

پولیس کا کہنا ہے کہ چوری شدہ نوادرات میں مختلف رنگوں کے پتھروں سے سے جڑے دیدہ زیب ہار، چوڑیاں اور دیگر نادر اشیاء شامل ہیں جو دوسری صدی عیسوی کی نایاب تخلیقات میں شامل ہوتی ہیں.

یاد رہے کہ سرکپ کے کھنڈر کی کھدائی سر جان مارشل کے زیر سربراہی 1912  سے 1930 کے درمیان کی گئی تھی جب کہ قیام پاکستان سے دو سال قبل دوبارہ ان کھنڈرات کی کھدائی کی گئی جس میں مزید حصے دریافت کیے گئے تھے۔

ماہرین تاریخ اور آثار قدیمہ کا غالب خیال ہے کہ سرکپ کا شہر یونانی و بکتری بادشاہ دیمیٹریوس نے ہندوستان پر حملہ کے بعد 180 قبل مسیح میں بسایا تھا جب کہ  کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شہر مینندر اول نے تعمیر کیا تھا۔

تاریخی ورثہ کا یوں چوری ہوجانا غفلت اور لاپرواہی کی مثال ہی نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر ہماری بدنامی کا باعث بھی ہے چناچہ اس قبیح عمل کی مکمل تحقیقات کر کے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں