The news is by your side.

Advertisement

فرانس میں سعودی ولی عہد کی بہن کے خلاف ٹرائل کا آغاز

پیرس : فرانس میں سعودی ولی عہد کی بہن کے خلاف ٹرائل کا آغاز ہوگیا ، سعودی شہزادی کے خلاف اپنے باڈی گارڈ سے فرانسیسی شہری پر تشدد کرانے کے الزامات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کی عدالت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی بہن کے خلاف پیرس میں ان کے اپارٹمنٹ کی تزئین و آرائش کرنے والے ملازم کی پٹائی کروانے پر ٹرائل کا آغاز کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان کی بہن حسہ بنت سلمان پر اپنے محافظ کو ملازم کی پٹائی کا حکم دینے کا الزام ہے، جسے انہوں نے ستمبر 2016 میں اپنی رہائش گاہ میں تصویر لیتے دیکھا تھا۔

حسہ بنت سلمان نے مذکورہ کاریگر پر مبینہ طور پر ایونیو فوش پر واقع ان کے اپارٹمنٹ، جو مغربی پیرس میں غیر ملکی کروڑ پتی افراد کی پسندیدہ جگہ ہے، کی تصاویر فروخت کرنے کا منصوبے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب کاریگر کا موقف ہے کہ ان کے ہاتھ باندھ کر شہزادی کے پاؤں کا بوسہ لینے کا حکم دیا گیا تھا، جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے اور انہیں سعودی عرب کے سرکاری میڈیا میں اپنے فلاحی کاموں اور خواتین کے حقوق کی مہم میں سرگرم خاتون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں  :  فرانسیسی شہری پر تشدد : سعودی ولی عہد کی بہن کے خلاف فرانس میں مقدمہ

ملازم نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں انہیں مارا پیٹا گیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا، اس دوران ان کے اوزار بھی قبضے میں لے لیے گئے تھے۔

فرانس میں میگزین کو دیئے گئے بیان میں کاریگر نے کہا تھا کہ شہزادی نے چیختے ہوئے کہا تھا کہ اسے قتل کردو، اسے جینے کا کوئی حق نہیں۔

شہزادی کے محافظ کے وکیل یٰسین بوزرو نے بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ ججز، شکایت کنندہ کے بیان میں مختلف تضادات اور بے ربطگی کا نوٹس لیں گے، ملازم کے میڈیکل ریکارڈ اور بیان میں تضاد ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہے۔

شہزادی حسہ بنت سلمان کے محافظ نے کاریگر کے خلاف ہتک عزت کا علیحدہ مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔

یاد رہے سعودی شہزادی کے خلاف مقدمہ ستمبر 2016ءمیں درج کیا گیا تھا اور مئی 2018 میں سعودی شہزادی کے انٹرنیشنل وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں