روس پر امریکی پابندیاں، روبل کی قیمت میں ریکارڈ کمی Russian rouble
The news is by your side.

Advertisement

روس پر امریکی پابندیاں، روبل کی قیمت میں ریکارڈ کمی

ماسکو : امریکا کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد روسی اسٹاک مارکیٹ میں روسی کرنسی روبل کی قیمت 3.4 فیصد کمی کے بعد تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور اس کی بیٹی یویلیا اسکریپال پر کیمیکل یا بائیولوجیکل ہتھیار کا استعمال کرنے پر امریکا کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے باعث روسی کرنسی روبل نومبر 2016 کے بعد تاریخ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے روس پر پابندی لگانے کے اعلان کے کچھ گھنٹوں بعد ہی روس کے اسٹاک مارکیٹ میں روبل کی قیمت میں 3.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق منگل کے روز روس کی اسٹاک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 63.4 روبل تھی جو گذشتہ روز امریکی پابندی کے کچھ گھٹنے بعد 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ 66.7 فیصد ہوگئی۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدرنوئرٹ نے گذشتہ روز بیان میں روس پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ روس نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف اعصاب شکن کیمیکل یا بائیولوجیکل ہتھیار کا استعمال کیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ روس پر نئی پابندیوں کا اطلاق بائیس اگست سے ہوگا، اطلاق کے بعد روس حساس الیکٹرانک آلات اور دیگر ٹیکنالوجی کو درآمد نہیں کرسکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف امریکا کے اقدامات کا خیر مقدم کیا گیا۔

دوسری جانب روسی سفارت خانے نے امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے ’ظالمانہ‘ قرار دیا ہے اور کہا تھا کہ اس حملے میں روس کو ملوث کرنے کے الزامات محض ’مبالغہ آرائی‘ پر مبنی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس مارچ کے اوائل میں برطانیہ کے علاقے سالسبری میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اوران کی بیٹی یویلیا اسکریپال کو اعصاب شکن کیمیکل حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد برطانیہ نے حملے کی ذمہ داری روس پرعائد کی تھی۔

نوویچوک نامی زہریلے کیمیکل کے واقعے کے بعد روس اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی میں بے تحاشا اضافہ ہوا تھا، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا تھا، جبکہ امریکا سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی روس کے بیشتر سفارتکاروں کو ملک سے بے دخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں