The news is by your side.

Advertisement

چین نے ناممکن کو ممکن بنا دیا، فضا میں معلق ہوکر چلنے والی ٹرین

بیجنگ: اونچائی پر لگی پٹریوں اور فضا میں چلنے والی ٹرین کا منصوبہ تیزی سے اختتام کی جانب گامزن ہے۔

چائنا ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق چین میں مقامی انجینئرزنے ’مونو ریل‘ گاڑی تیار کی جسے ’اسکائی ٹرینُ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والے اسکائی ٹرین کی آزمائش کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹرین سروس کے آپریشن کا آغاز آئندہ برس سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

چین کی بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے عوام کی نقل و حرکت کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجربات کیے اور اس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

یک بعد دیگرے جدید  اور تیز ترین ٹرینوں کی ایجادات کے بعد چین میں’’اسکائی ٹرین‘‘ کا کامیاب تجربہ تین برس قبل کیا گیا تھا۔

ہوا میں لٹکی ہوئی پٹریوں پر چلنے والی اسکائی ٹرین 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، آرام دہ سفر اور دلکش نظارے دکھانے والی اسکائی ٹرین کی سروس چین کے مشرقی شہر شین ڈونگ 2017 میں شروع کی گئی۔

ٹرین میں 510 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے، تجربے کو کامیاب بنانے اور سفر کے لیے کم پیسوں میں عوام کو اچھی سہولت فراہم کی جارہی ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں