The news is by your side.

Advertisement

نیند کیوں‌ رات بھر نہیں‌ آتی!

نیند کی سادہ تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ ہم ایک ایسی حالت میں‌ چلے جاتے ہیں‌ جو گرد و پیش سے بے خبر کر دیتی ہے۔

انسان ایک ہی جگہ اپنے جسم کو آرام دینے کی غرض سے چند گھنٹوں تک لیٹا رہتا ہے اور اس دوران بات کرنے اور دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، مگر حرکت کرتا ہے اور سانس لیتا ہے۔ عموماً نیند یا استراحت کے لیے ہم کوئی تیاری نہیں کرتے اور یہ ہمارے معمولات میں شامل ہے۔

یہ سبھی جانتے ہیں‌ کہ نیند جسمانی اور دماغی صحت کے لیے ضروری ہے، مگر صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کے لیے اچھی نیند آنا یعنی وقت پر اور تسلسل کے ساتھ سونا ضروری ہے۔ بعض لوگ بے خوابی یا نیند کے دورانیے میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں جس کی مختلف وجوہ ہو سکتی ہیں۔ ان میں ذہنی پریشانی، الجھن اور کسی فکر میں ڈوبے رہنا بھی شامل ہے۔

نیند کے دوران ہمارا دماغ کام کرتا رہتا ہے جب کہ جسم ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور اس کا درجۂ حرارت گر جاتا ہے۔

کسی بھی انسان کے لیے کتنی نیند ضروری ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے ماہرین نے عمر کو بنیاد بنایا ہے۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ چھوٹے بچے دن میں تقریباً سترہ گھنٹے سوسکتے ہیں۔ ان سے بڑی عمر کے بچے دن میں تقریباً نو یا دس گھنٹے سوتے ہیں جب کہ بالغ افراد کی اکثریت رات کو سات یا آٹھ گھنٹے نیند کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ تاہم بعض لوگ اس سے کم وقت میں بھی جاگ جاتے ہیں اور کسی قسم کی شکایت محسوس نہیں‌ کرتے۔ سات یا آٹھ گھنٹے کی نیند کو طبی محققین ضروری خیال کرتے ہیں، مگر بعض‌ کے نزدیک یہ زیادہ دورانیہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مخصوص دورانیے سے کم نیند بھی صحت کے لیے اچھی نہیں۔ ایسے افراد تھکن اور بے چینی محسوس کرتے ہیں اور چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔

غالب کا یہ شعر تو آپ نے سنا ہی ہو گا

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں‌ رات بھر نہیں‌ آتی

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں