The news is by your side.

Advertisement

نیند پوری کرنے سے پہلے یہ جان لیں

نیند پوری کرنا صحت کے لیے بے حد ضروری ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ نیند کی مقدار مناسب اور ضرورت کے مطابق ہو۔

ماہرین کے مطابق زیادہ سونا یا کم سونا، دونوں ہی صورتیں صحت کی لیے نقصان دہ ہوتی ہیں، سائنسی تحقیق کے مطابق بالغ لوگوں کوروزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند درکار ہوتی ہے وہیں ایک نومولود کو تقریباً 11 سے 12 گھنٹے کی نیند چاہیئے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسکول جانے والے بچوں کو 9 سے 11 گھنٹے کے درمیان جبکہ نوجوانوں کو 8 سے 10 گھنٹے تک کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے، کم عمر افراد کے لیے بھر پور نیند بہت اہمیت کی حامل ہے۔

یہ بات بھی اکثر نوٹ کی جاتی ہے کہ رات کو اچھی طرح سونے کے باوجود دن میں نیند کے جھونکے آتے رہتے ہیں۔

اس حالت کو ایکسیسو ڈے ٹائم سلیپی نیس یعنی دن کو اضافی خمار بھی کہا جاتا ہے، اس صورت میں نیند سے بچنے کے لیے اضافی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

دن میں ضرورت سے زیادہ سونے سے انسانی وجود پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان میں نیند کی کمی، وقفے وقفے سے نیند آنا، طبی اور نفسیاتی حالات اور نیند کی خرابی شامل ہیں۔

بالغ افراد، عمر رسیدہ افراد اور مختلف اوقات میں کام کرنے والے زیادہ تر نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، ناکافی نیند کا مسئلہ عام طور پر کام کے زیادہ یا متغیر اوقات، اضافی ذمہ داریاں اور پیچیدہ طبی حالات کی وجہ سے درپیش آتا ہے۔

واضح رہے کہ طرز زندگی میں سادہ سی تبدیلیاں بہت سے افراد کو رات کی بہتر نیند لینے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔

ان میں صحت بخش اور متوازن غذا کھانا، کیفین اور الکوحل کی مقدار کو محدود کرنا، باقاعدگی سے ورزش کرنا، آرام کی نیند کیلئے اچھا ماحول پیدا کرنا، رات کو سونے سے پہلے گرم غسل کرنا اور طے شدہ اوقات کے مطابق نیند لینا شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں