اسلام آباد : چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری آسان بنادی گئی اور حد 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک کی کیپٹل مارکیٹ میں چھوٹے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک میں بڑی ترامیم کر دی۔
نئی اصلاحات کے تحت اب عام شہری میوچل فنڈز میں زیادہ رقم سرمایہ کاری کر سکیں گے اور اکاؤنٹ کھولنے کا عمل بھی انتہائی سہل بنا دیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی کے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا کہ کم رسک والے میوچل فنڈ اکاؤنٹس کی حد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ، سہل اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری کی حد 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، اس کی حد 10 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے تک پہنچا دی گئی ہے۔
نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت بینکوں یا دیگر مالیاتی اداروں کے موجودہ صارفین کے لیے کے وائی سی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
اب چھوٹے سرمایہ کاروں کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جدید بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے آن لائن اکاؤنٹ کھولنے کا عمل مزید آسان بنا دیا گیا ہے، جس سے ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں فوری ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولے جا سکیں گے۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کیپٹل مارکیٹ کا حصہ بنانا ہے، "ہمارا ہدف پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک بڑھانا ہے۔ ان اقدامات سے عوام کو براہِ راست سرمایہ کاری، منافع اور ملکی معاشی ترقی کے ثمرات سے فائدہ پہنچے گا۔”
حکام کا ماننا ہے کہ ان اصلاحات سے نہ صرف بچت کے کلچر کو فروغ ملے گا بلکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کو محفوظ اور منافع بخش پلیٹ فارم تک رسائی بھی حاصل ہوگی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


