The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ سیکنڈ کے دس کھرب ویں حصے کے بارے میں جانتے ہیں؟

ایک سیکنڈ کا وقت بظاہر یوں گزر جاتا ہے کہ اس کا احساس بھی نہیں ہونے پاتا، لیکن سائنسی تجربہ گاہوں میں کائنات کی پیچیدگیوں کو جاننے کے لیے یہ وقت نہایت طویل ہے۔

کائنات کے مختلف عناصر کے بارے میں جاننے اور زمین و خلا کی وسعتوں میں نئے تجربات کرنے کے لیے سیکنڈ کے ہزارویں لاکھ ویں حصے کی بھی نہایت اہمیت ہے اور سائنس دان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہماری کائنات کے بیشتر اہم اور بنیادی نوعیت کے حامل مظاہر فطرت بھی انتہائی مختصر وقت میں رونما ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف وقتوں کے ماہرین وقت کے مختصرترین دورانیے کو جاننے کی تگ و دو میں تھے۔

سنہ 1999 میں ایک مصری کیمیا دان احمد زویل نے مالیکیولز کی ہئیت تبدیل ہونے کے وقت کی پیمائش کی تھی، یہ وقت بعد ازاں فیمٹو سیکنڈ کہلایا اور یہ سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے کا دس لاکھ واں حصہ تھا۔

یہ اب تک جانا جانے والا وقت کا مختصر ترین دورانیہ تھا۔ احمد زویل کو اس تجربے کی وجہ سے کیمیا کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔

تاہم سنہ 2016 میں جرمنی کی گوئٹے یونیورسٹی کے ماہرین نے وقت کا اس سے بھی مختصر دورانیہ دریافت کرلیا۔

ایک تجربے کے دوران ماہرین کے مشاہدے میں آیا کہ ان کا انجام کردہ کیمیائی عمل پلک جھپکتے میں رونما ہوا، ماہرین نے تفصیلاً اس کی پیمائش کرنے کے بعد اسے زیپٹو سیکنڈ کا نام دیا۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ زیپٹو سیکنڈ کا دورانیہ ایک سیکنڈ کے ارب ویں حصے کا دس کھرب واں حصہ ہے۔

سنہ 2016 میں ماہرین نے جس کیمیائی عمل کا مشاہدہ کیا وہ 850 زیپٹو سیکنڈز میں رونما ہوا تھا، تاہم رواں برس گزشتہ ماہ یعنی اکتوبر 2020 میں اسی یونیورسٹی میں ایک تجربے کے دوران ماہرین نے ایک اور کیمیائی عمل کا مشاہدہ کیا جو اس سے بھی کم وقت یعنی 247 زیپٹو سیکنڈز میں رونما ہوا۔

یہ نیا ریکارڈ پچھلے ریکارڈ سے 3.4 گنا مختصر ہے۔ اسے انسانی تاریخ میں اب تک کی وقت کی مختصر ترین پیمائش قرار دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں