لاہور: اسمارٹ میٹر منصوبے میں مبینہ ساڑھے 6 ارب روپے کرپشن اسکینڈل پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا، لیسکو، گیپکو، میپکو، فیسکو نے ریکارڈ پیش کردیا۔
ایف آئی اے تحقیقات میں 3 لاکھ اسمارٹ میٹرز کا ٹھیکہ مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر دینے کا انکشاف سامنے آیا، ذرائع نے بتایا کہ لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو ریکارڈ پیش کردیا، ایف آئی اے نے گیپکو، میپکو، فیسکو کو ریکارڈ فراہم کرنے کے احکامات جاری کررکھے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ ایف آئی اے کو فراہم کیا گیا ہے، مبینہ غیرقانونی ٹھیکوں، جعلی دستاویز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر تحقیقات تیز کردی گئی ہیں۔
تحلیل شدہ کمپنیوں کی جانب سے ٹینڈرز میں غیرقانونی شرکت کا الزام ہے، لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو افسران سے ایف آئی اے نے 3 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔
ذرائع نے کہا کہ لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو افسران سے 20، 20 سوالات کے جواب تحریری وصول کیے گئے، ایف آئی اے نے 7 اپریل کے بعد دیے گئے تمام ٹھیکوں اور ٹینڈرز کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔
لیسکو بڈنگ کی ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی ایف آئی اے نے حاصل کرلیا ہے، ایف آئی اے نے آڈٹ اعتراضات، اندرونی نوٹنگز اور وارننگز کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا، کمپنیوں کی بلیک لسٹنگ یا کاروبار جاری رکھنے سے متعلق فیصلوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا۔
ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں لیسکو افسران کی ملی بھگت کے الزامات سامنے آگئے، اسمارٹ میٹر منصوبے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔


