site
stats
صحت

اسمارٹ فون بچوں کو ’نشے‘ کا عادی بنانے کا سبب

ماہرین نے خوفناک انکشاف کیا ہے کہ جدید دور کی اشیا جیسے اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ وغیرہ ہمارے بچوں کو اپنی لت کا شکار کر رہی ہیں اور یہ دماغ کو ایسے ہی متاثر کر رہی ہیں جیسے افیون یا کوئی اور نشہ آور شے کرتی ہے۔

امریکا میں ماہرین نفسیات کے ایک گروہ نے اپنے پاس آنے والے مریضوں کے امراض کی بنیاد پر ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا اور اس کے تحت چند اخبارت میں کچھ رہنما مضامین شائع کروائے۔

ان ماہرین کے مطابق پچھلے کچھ عرصے سے ان کے پاس ایسے والدین کی آمد بڑھ چکی ہے جو اپنے بچوں کے رویے تبدیل ہونے سے پریشان تھے اور جاننا چاہتے تھے کہ ایسا کیوں ہوا اور اس سے اب کیسے بچا جائے۔

ماہرین نے جب ان بچوں کی روزمرہ عادات کا جائزہ لیا تو انہیں علم ہوا کہ اسمارٹ فونز ان بچوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے جو ان کی جسمانی و نفسیاتی صحت پر بھیانک اثرات مرتب کر رہا ہے۔

ان ماہرین کے مطابق بعض والدین خود بھی اس بات سے آگاہ تھے کہ جب سے ان کے بچوں نے اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کیا ہے تب سے ان کے رویوں اور عادات میں منفی تبدیلیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ البتہ کچھ والدین کو اس کا علم نہیں تھا اور وہ اس بات کو ماننے سے انکاری تھے کہ اسمارٹ فون ان کے بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

:ایک خوفناک مثال

نیویارک کی رہائشی ایک والدہ سوزین کا کہنا تھا کہ اس کا 6 سالہ بیٹا ایک زندہ دل اور خوش مزاج بچہ تھا جو کھیلوں اور پڑھائی میں بھرپور دلچسپی لیتا تھا۔ پھر اسے اس کی ساتویں سالگرہ پر انہوں نے آئی پیڈ تحفہ میں دیا اور یہیں سے خرابی کا آغاز ہوا۔

سوزین کے مطابق انہوں نے یہ تحفہ اسے اس لیے دیا تاکہ وہ اپنی تعلیم کے لیے دنیا بھر کی ریسرچ سے استفادہ کرسکے۔ ساتھ ساتھ وہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو اور اس کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہو۔

kids-3

شروع میں ایسا ہی ہوا، انہوں نے دیکھا کہ ان کے بچے کی تعلیمی کارکردگی میں اضافہ ہوگیا اور گفتگو کے دوران وہ دنیا بھر میں ہونے والی مختلف سرگرمیوں کے بارے میں بات چیت کرنے لگا، لیکن پھر آہستہ آہستہ صورتحال تبدیل ہوتی گئی۔

اب انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت خاموشی سے آئی پیڈ کے ساتھ گزارنے لگا۔ اس کے رویے میں تبدیلی آتی گئی۔ جس وقت آئی پیڈ اس کے پاس نہ ہوتا وہ گم صم رہتا۔ پڑھائی اور کھیلوں سے بھی اس کی دلچسپی ختم ہونے لگی۔

 * فیس بک کا زیادہ استعمال بچوں کو بدتمیز بنانے کا سبب

سوزین کا کہنا تھا کہ ایک دن رات کے وقت وہ یہ سوچ کر اس کے کمرے میں گئیں کہ وہ سورہا ہوگا، لیکن وہ جاگ رہا تھا اور اپنے آئی پیڈ پر جانوروں کو قتل کرنے والے ایک کھیل میں مشغول تھا۔ لیکن خوفناک بات یہ تھی کہ وہ دنیا سے بے خبر آنکھیں پھاڑے، کسی حد تک ایب نارمل انداز میں اسکرین کو گھور رہا تھا اور جیسے ایک ٹرانس میں محسوس ہورہا تھا۔ سوزین کو اسے متوجہ کرنے کے لیے کئی دفعہ زور سے ہلانا پڑا تب وہ بری طرح چونک اٹھا۔

سوزین کے مطابق اس صورتحال سے وہ بے حد خوفزدہ ہوگئیں اور اگلے ہی دن اسے ماہر نفسیات کے پاس لے آئیں۔

جدید دور کی ایجاد لت کیسے؟

سوزین جیسے کئی اور والدین بھی تھے جنہوں نے کم و بیش اسی صورتحال سے گھبرا کر ماہرین نفسیات سے رجوع کیا۔ بعض والدین نے بتایا کہ اسمارٹ فونز میں موجود گیمز بچوں کے اعصاب پر اس قدر حاوی ہوچکے ہیں کہ وہ خواب میں بھی انہیں ہی دیکھتے ہیں اور صبح اٹھ کر بتاتے ہیں کہ انہوں نے خواب میں کتنے دشمنوں کو مار گرایا۔

ماہرین نفسیات نے جب اس سلسلے میں دیگر ماہرین سے رجوع کیا اور مزید تحقیق کی تو ان پر انکشاف ہوا کہ جدید دور کی یہ اشیا بچوں کو ڈیجیٹل نشے کا شکار بنا رہی ہیں۔

ماہرین نے خوفناک انکشاف کیا کہ یہ ڈیجیٹل لت دماغ کو ایسے ہی متاثر کر رہی ہے جیسے کوکین یا کوئی اور نشہ کرتا ہے۔

ڈیجیٹل دور میں ڈیجیٹل بیماریوں کو خوش آمدید کہیئے

طبی بنیادوں پر کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ اس لت کا شکار بچے جب اپنی لت پوری کرتے ہیں تو ان کا دماغ جسم کو راحت اور خوشی پہنچانے والے ڈوپامائن عناصر خارج کرتا ہے۔

اس کے برعکس جب بچے اپنی اس لت سے دور رہتے ہیں تو وہ بیزار، اداس اور بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض بچے چڑچڑاہٹ، ڈپریشن، بے چینی اور شدت پسندی کا شکار بھی ہوگئے۔

ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ جو بچے اسمارٹ فونز پر مختلف گیم کھیلنے کی لت کا شکار ہوگئے وہ حقیقی دنیا سے کٹ سے گئے اور ہر وقت ایک تصوراتی دنیا میں مگن رہنے لگے۔ یہ مسئلہ نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں میں بھی دیکھا گیا۔

ماہرین نے کہا کہ یہ تمام علامتیں وہی ہیں جو ایک ہیروئن، افیون یا کسی اور نشے کا شکار شخص کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے اسے ڈیجیٹل فارمیکا (فارمیکا یونانی زبان میں نشہ آور شے کو کہا جاتا ہے) کا نام دیا۔

بچوں کو کیسے بچایا جائے؟

دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایجاد کی گئی یہ اشیا کس قدر مضر ثابت ہوسکتی ہیں، شاید اس کا اندازہ خود ان کے خالقوں کو بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیو جابز اپنے بچوں کو ایک ٹیکنالوجی سے دور رکھنے والا والد تھا۔ سیلیکون ویلی کے سرکردہ افراد اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال کم ہوتا ہے۔

یہی حال امیزون کے خالق جیف بیزوس اور وکی پیڈیا کے خالق جمی ویلس کا بھی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کروایا جہاں  ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں ہر 3 میں سے ایک بچہ بولنے سے قبل ہی اسمارٹ فون کے استعمال سے واقف ہوجاتا ہے۔

تو پھر آخر بچوں کو اس نشے سے کیسے بچایا جائے؟

بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کے اقدامات

اپنے بچوں کو اغوا ہونے سے محفوظ رکھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ نشے کے شکار افراد کی طرح ایسے افراد اور بچوں کی زندگی سے بھی ٹیکنالوجی کو بالکل خارج کردیا جائے۔ اسمارٹ فونز، کپیوٹر حتیٰ کہ ٹی وی کو بھی ممنوعہ بنادیا جائے۔

آج کل کے دور میں یہ ایک نا ممکن بات تو ہے مگر بچوں کو بچانے کا واحد حل یہی ہے۔

kids-2

ماہرین نے مزید تجاویز دیں کہ بچوں کو 12 سال کی عمر سے قبل کسی قسم کی ٹیکنالوجی سے متعارف نہ کروایا جائے۔

بچپن سے ہی بچوں کو کتابوں اور روایتی کھلونوں سے مصروف رکھا جائے۔

انہیں باہر جا کر جسمانی حرکت والے کھیل جیسے کرکٹ اور فٹبال یا سائیکل چلانے کی ترغیب دی جائے۔

باغبانی کے بچوں پر مفید اثرات

قدرتی اشیا جیسے سبزہ زار، پھولوں، درختوں، سمندر اور ہواؤں سے روشناس کروایا جائے اور ان کی خوبصورتی اور اہمیت بتائی جائے۔

سبزہ زار بچوں کی ذہنی استعداد میں اضافے کا سبب

گھر کے اندر انہیں گفتگو میں مصروف رکھا جائے۔ ان سے روزمرہ کی مصروفیات، اسکول، دوستوں اور کھیلوں کے بارے میں باتیں کی جائیں۔

گھر میں تمام افراد مل کر کھانا کھائیں اور اس دوران موبائل فونز کو دور رکھیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔

ٹی وی دیکھتے ہوئے والدین میں سے کوئی ایک بچوں کے پاس رہے اور انہیں مثبت پروگرامز جیسے کارٹون، معلوماتی پروگرامز اور کھیلوں کے میچ وغیرہ دیکھنے کی جانب راغب کیا جائے۔ ایسا اسی صورت ہوگا جب والدین خود یہ پروگرامز دیکھیں گے۔

بچوں کو کہانی سناتے ہوئے انہیں تصوراتی دنیا میں بھیجنے سے گریز کریں۔ انہیں حقیقی زندگی کی کہانیاں اور قصے سنائیں۔

یاد رکھیں کہ جب بچے تنہا اور بوریت کا شکار ہوتے ہیں تو وہ یہ جانے بغیر کہ کیا چیز ان کے لیے نقصان دہ ہے اور کیا فائدہ مند، کسی بھی چیز کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں اور اس کے عادی بن سکتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور انہیں بھرپور وقت دیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top