The news is by your side.

Advertisement

اب اسمارٹ فون بھی شوگر کی تشخیص کرسکتا ہے

کیلی فورنیا: ذیابیطس ایک تیزی سے بڑھتا ہوا مرض ہے جس کی وجہ غیر صحت مند طرز زندگی ہے، ذیابیطس کی اسی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے ایک ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک عام اسمارٹ فون کو بھی ذیابیطس کی تشخیص کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ماہرین نے ایک نئی تکنیک سے اسمارٹ فون کیمرے کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی 80 فیصد درستگی سے شناخت کر سکتا ہے، یونیورسٹی کے ماہرین نے ذیابیطس کی شناخت کے لیے ایک خاص الگورتھم بنایا ہے جو کیمرے کی مدد سے ذیابیطس کا نشاندہی کرتا ہے۔

اس عمل کو طب کی زبان میں فوٹو پلائتھسموگرافی (پی پی جی) کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں روشنی کو کسی کھال یا بافت (ٹشو) پر ڈالا جاتا ہے جس سے خون کے حجم میں کمی بیشی کو نوٹ کیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح سے شہادت کی انگلی پر سینسر لگا کر خون میں آکسیجن کی مقدار اور دھڑکن کو بھی معلوم کیا جاتا ہے۔

اس کے لیے پہلے ایک الگورتھم بنایا گیا اور پھر غور کیا گیا کہ آیا اسمارٹ فون کیمرہ ذیابیطس کی وجہ سے خون کی رگوں کو پہنچنے والے کسی نقصان یا تباہی کو ظاہر کر سکتا ہے یا نہیں؟

اس کے بعد پی پی جی کی لاکھوں ریکارڈنگز کو ایک بڑے ڈیٹا بیس میں رکھا گیا اور انہیں تربیت دی گئی تاکہ وہ صحت مند اور بیمار بافتوں کے درمیان فرق کر سکے۔ اس کے بعد پی پی جی ٹیکنالوجی کو ذیابیطس کی شناخت کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس پورے تجربے میں کل 53 ہزار سے زائد 26 لاکھ پی پی جی ریکارڈنگز کو دیکھا گیا اور تمام افراد میں ذیابیطس کی درست شناخت ہوئی۔

دوسرے تجربے میں لوگوں کے 3 گروہوں کا اسمارٹ فون کیمرے سے جائزہ لیا گیا اور ان کی انگلیوں پر کیمرے لگائے گئے۔ پورے سسٹم نے 80 فیصد درستگی کے ساتھ ذیابیطس کی شناخت کی۔

اس طرح ماہرین نے اسے کم تکلیف والا ٹیسٹ قرار دیا ہے جس کی بدولت عام اسمارٹ فون کے ذریعے ذیابیطس کی شناخت کی جاسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں