The news is by your side.

Advertisement

بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف

لاڑکانہ: صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں خلاف قانون بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے، جبری رخصت پر بھیجی جانے والی وائس چانسلر نے جامعہ ملازمین کے رشتے داروں کو بھرتی کیا۔

تفصلات کے مطابق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں کی جانے والی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، سندھ حکومت کی منظوری کے بغیر اہم عہدوں پر 27 افراد بھرتی کیے گئے۔

بھرتیاں جبری چھٹی پر بھیجی گئی وائس چانسلر انیلا عطا الرحمٰن کی منظوری سے کی گئیں۔

اے آر وائی نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق 20 گریڈ کے سید قرار شاہ کو 21 گریڈ میں پروفیسر کمیونٹی میڈیسن بھرتی کیا گیا، ڈاکٹر قرار شاہ کو اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفیسر کا کوئی تجربہ نہیں۔

ڈپٹی رجسٹرار فہد جبران سیال کو ایسوسی ایٹ پروفیسر فارماکالوجی اور فارمیسی، ڈپٹی رجسٹرار کی بہن ڈاکٹر دعا رابیل کو فارماکالوجی میں لیکچرار، اور دو بہن بھائیوں انعم اور نوید کو فزیالوجی میں بطور لیکچرار تعینات کیا گیا۔

بھرتی کیے گئے متعدد افراد یونیورسٹی ملازمین کے قریبی رشتے دار ہیں، تمام بھرتیاں یونیورسٹی کی سینیٹ کی منظوری کے بغیر کی گئیں، سنڈیکیٹ اجلاس میں بھی بورڈز کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے بھرتیوں کی مخالفت کی تھی۔

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے غیر قانونی بھرتیوں کی خبروں کی تردید کی ہے، ترجمان یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ تمام بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر سیکشن بورڈ نے کیں۔

ترجمان کے مطابق کسی بھی ڈاکٹر کو تاحال آفر لیٹر جاری نہیں کیا گیا، یونیورسٹی کے سینیٹ کی منظوری کے بعد آفر لیٹر جاری کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں دو طالبات کی پراسرار موت کے بعد وائس چانسلر کو جبری چھٹیوں پربھیج کر ان کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

جبری رخصت پر بھیجی جانے والی انیلا عطا الرحمٰن کی جگہ وائس چانسلر کا عارضی چارج ڈاکٹر حاکم ابڑو کے حوالے کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں