لاہور : بھارتی آتشبازی کا دھواں پاکستانی شہروں میں داخل ہونے کے باعث لاہور میں دھند اور اسموگ میں خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دیوالی کے بعد فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 821 تک جاپہنچا، جس کے بعد دہلی دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے۔
فضائی معیار مانیٹر کرنے والی عالمی ویب سائٹ نے بتایا کہ لاہور آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 268 ریکارڈ کیا گیا، ماہرین نے شہری فضا کو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیا ہے۔
ممبئی 172 پرٹیکیولیٹ میٹرز کے ساتھ تیسرے اور کلکتہ ایک سوستر پرٹیکولیٹ میٹرز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔
ماحولیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز لاہور میں فضائی آلودگی 210 سے 240 اے کیو آئی کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ بھارتی آتشبازی کا دھواں مشرقی ہواؤں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ دھرمشالہ سے چلنے والی ہوائیں گوجرانوالہ کے راستے لاہور اور فیصل آباد تک پہنچیں گی، جبکہ لدھیانہ اور سری گنگانگر سے آنے والی ہوائیں ساہیوال اور بورے والا میں داخل ہوں گی۔ اسی طرح ہریانہ سے چلنے والی ہوائیں بہاولپور، رحیم یار خان اور ملتان کی جانب بڑھیں گی۔
ہوا کی رفتار 3 سے 6 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے، تاہم حکام نے ماحولیاتی بہتری کی امید ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے سموگ کنٹرول کے لیے غیرمعمولی اقدامات جاری رکھے ہیں۔ ایل ڈی اے، واسا اور ای پی اے فورس کی مشترکہ ٹیمیں پانی کے چھڑکاؤ اور سڑکوں کی صفائی میں مصروف ہیں اور صوبے بھر میں سموگ ہاٹ اسپاٹس پر اینٹی سموگ گنز کا استعمال جاری ہے۔
پہلا سموگ مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں سے فضائی ڈیٹا کی ریکارڈنگ مسلسل جاری ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے شہریوں کو منگل کے روز ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سموگ کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


