ہائیکورٹ میں اسموگ سے متعلق حفاظتی اقدامات کی تفصیلات طلب -
The news is by your side.

Advertisement

ہائیکورٹ میں اسموگ سے متعلق حفاظتی اقدامات کی تفصیلات طلب

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے روبرو حکومت کی جانب سے اسموگ کا ملبہ بھارت پر ڈالنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ عدالت نے حکومتی بیان مسترد کرتے ہوئے سموگ کے حوالے سے حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہم کی تفصیلات طلب کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال سمیت دیگر شہریوں کی جانب سے اسموگ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسموگ کی وجہ سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں بچے، خواتین متاثر ہو رہے ہیں لیکن حکومت کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے نہ صرف شہری بیمار ہو رہے ہیں بلکہ اسموگ نے لوگوں کو ذہنی طور پر بھی خوفزدہ کر رکھا ہے اور اس پر حکومت کی جانب سے عوام کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اسموگ کیا چیز ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں۔

زہریلی اسموگ سے کیسے بچا جائے؟ *

عدالتی حکم پر سیکریٹری صحت ڈاکٹر ساجد، سیکریٹری ماحولیات سیف انجم اور چیف میٹرو لوجسٹ محمد ریاض عدالت میں پیش ہوئے۔ سیکریٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ بھارت کے علاقے ہریانہ میں 32 ملین ٹن چاول کی فصل کی باقیات کو آگ لگائی گئی جس کا دھواں پاکستانی پنجاب میں دھند کے ساتھ مل کر اسموگ بن گیا۔

لاہور میں زہریلی دھند کی وجہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کا جلانا ہے، ناسا *

عدالت نے سیکریٹری ماحولیات کے بیان پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بھارت کی بات چھوڑیں، آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ صرف ہوا میں باتیں کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ حکومت تب کہاں سوئی ہوئی تھی جب بچے بیمار ہو رہے تھے۔

سرکاری وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ عوام میں اسموگ سے متعلق آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے کہ اسموگ کے مضر اثرات سے کیسے بچا جا سکتا ہے جس پر عدالت نے آگاہی مہم پر مشتمل دستاویزات طلب کیں تاہم حکومتی سیکریٹریز اور سرکاری وکلا کوئی اشتہار پیش نہ کر سکے۔

زہریلی اسموگ بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن گئی *

عدالت نے ریمارکس دییے کہ اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ ماحولیاتی تبدیلی سے ہے لیکن اس طرف کسی کا دھیان نہیں جا رہا۔ عدالت نے سیکریٹری صحت اور سیکریٹری ماحولیات کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اسموگ پر قابو پانے کے لیے عملی طور پر کوئی بھی بات موجود نہیں ہے۔ سب باتیں ہوا میں کر کے محض وقت گزارا جا رہا ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سیکریٹری ماحولیات اور سیکریٹری صحت سے اسموگ پر قابو پانے کے لیے حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہم کی تفصیلات طلب کرلیں۔

دھند کے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں *

یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے لاہور زہریلی اسموگ کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث اب تک کئی افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ پورا شہر مختلف امراض کی زد میں آچکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں