The news is by your side.

Advertisement

نیوزی لینڈ میں 2004 کے بعد سے پیدا ہونے والے شہریوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ نے تمباکو نوشی سے پاک نسل پروان چڑھانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں 2004 کے بعد سے پیدا ہونے والے شہریوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی کے سلسلے میں قانون سازی کی تیاری جاری ہے، جس سے نیوزی لینڈ کا تمباکو سے پاک نسل کا خواب حقیقت بن جائے گا۔

اس قانون سازی کا مقصد نیوزی لینڈ کو 2025 تک تمباکو نوشی سے پاک کرنا ہے، یہ تجویز پارلیمنٹ کی جانب سے آئی تھی، اگر یہ نیا قانون منظور ہوگیا تو اس کے بعد اگلے مرحلے میں بتدریج سگریٹ نوشی کے لیے عمر میں اضافے کا قانون لایا جائے گا۔

پارلیمنٹ میں پیش کردہ تجویز کے مطابق پہلے مرحلے میں بڑے اسٹورز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ مخصوص عمر کے لوگوں کو سگریٹ فروخت نہ کریں، ساتھ ہی سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار بھی کم کی جائے گی۔

وزیر صحت نیوزی لینڈ ڈاکٹر عائشہ ویرال کے مطابق 50 لاکھ آبادی والے نیوزی لینڈ میں تقریباً 5 لاکھ افراد یومیہ 10 یا اس سے زائد سگریٹ پیتے ہیں، جب کہ ہر سال تمباکو نوشی سے ملک میں ساڑھے 4 ہزار افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا اگر 2022 سے ہم نے 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی لگا دی تو سگریٹ سے پاک نسل کا خواب ایک حقیقت بن جائے گا، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈرا آرڈرن نے بھی ان سے اتفاق کیا، یعنی 2004 کے بعد پیدا ہونے والا کوئی بھی شہری کبھی بھی قانونی طور پر سگریٹ خریدنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

تاہم اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس انتہائی اقدام کے بعد بلیک مارکیٹنگ شروع ہو سکتی ہے، نیز سگریٹ نوشی کے عادی لوگ جرم کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں