The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: سگریٹ پینے والوں کے لیے بری خبر

لندن: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں کرونا وائرس سے اسپتال داخل ہونے کا خطرہ 80 فی صد زائد ہے۔

تفصیلات کے مطابق آکسفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ پینے والے افراد میں کرونا سے اسپتال داخل ہونے کا خطرہ 80 فی صد تک بڑھ جاتا ہے، یہ نتیجہ کرونا کے 4 لاکھ 21 ہزار مریضوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔

تھیورکس میں شائع ہونے والی اس ریسرچ اسٹڈی کے محققین نے خبردار کیا کہ تمباکو نوشی سے پھیپھڑے پہلی ہی سو فی صد کارکردگی دکھانے سے قاصر ہوتے ہیں، کرونا کا وار انھیں اسپتال پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین نے اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ ہر سگریٹ پینے والے 14 ہزار کرونا سے متاثر افراد میں سے 51 افراد کو اسپتال داخل ہونا پڑا، یہ تعداد ہر 241 افراد میں ایک بنتی ہے۔

اس طرح سگریٹ نوشی نہ کرنے والے 25 ہزار کرونا مریضوں کا ڈیٹا بھی دیکھا گیا، ان میں سے 400 مریضوں کو اسپتال داخل ہونا پڑا، یہ تعداد ہر 600 میں سے ایک بنتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دن میں 9 تک سگریٹ پینے والے افراد میں کرونا سے مرنے کا خطرہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے دگنا ہوتا ہے، 9 سے 19 سگریٹ روزانہ پینے والوں میں یہ خطرہ 5گنا تک زیادہ ہوتا ہے، جب کہ 19 سے زیادہ سگریٹ روزانہ پینے والوں میں خطرہ 6 سے 10 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

ٹھیک ایک برس قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس بات کے کافی ثبوت موجود ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے، انفیکشن کے خلاف جسم کے ردعمل کو روکتی ہے ، اور قوت مدافعت کو دبا دیتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں