مالے (25 نومبر 2025): مالدیپ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یکم جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والوں کے لیے تمباکو کی خرید اور استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مالدیپ نے ایک پوری نسل کے لیے تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، نیا قانون ہفتے کے روز نافذ ہو گیا، وزارت صحت کے مطابق یکم جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر سگریٹ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات خریدنے، استعمال کرنے یا انھیں فروخت کیے جانے پر مستقل پابندی ہوگی۔
تمباکو سے پاک نسل کی تعمیر کے مقصد سے لائے گئے اس قانون کے تحت 18 سال یا اس سے کم عمر افراد جب بڑے ہو جائیں گے تب بھی قانونی طور پر تمباکو نوشی نہیں کر سکیں گے، اس پابندی کا اطلاق مالدیپ کے شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں پر بھی ہوگا۔
موٹاپے کا حیرت انگیز علاج، امریکی فارما کمپنی نے میدان مار لیا
اس سیاحتی ملک میں اب تمام دکان داروں کو خریدار کی عمر کی تصدیق کرنا لازمی ہوگی، اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 50,000 روفیہ (تقریباً 3,200 امریکی ڈالر) تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مالدیپ میں پہلے ہی ای سگریٹ اور ویپنگ ڈیوائسز کی درآمد، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے، جو کوئی بھی ویپ استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اسے 5,000 روفیہ (تقریباً 320 امریکی ڈالر) کا جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
برطانیہ بھی اس مقصد کے لیے ایک قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے مطابق 1 جنوری 2009 یا اس کے بعد پیدا ہونے والوں کو قانونی طور پر تمباکو مصنوعات بیچنا جرم ہوگا۔ یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے لیکن ابھی یہ مکمل قانون نہیں بنا ہے۔ نیوزی لینڈ نے اسی نوعیت کی نسلی تمباکو پابندی نافذ کی تھی تاہم پھر اسے 2023 میں منسوخ کر دیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


