The news is by your side.

Advertisement

چترال میں ’سنو اسکینگ فیسٹول‘ کا باضابطہ انعقاد

چترال: ملک کے خوبصورت شمالی علاقے چترال کی وادی مدگلشت میں پہلی بار سنو سکینگ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، مقابلے میں لڑکیوں سمیت تین سو کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

تفصیلات کے مطابق چترال میں ہونے والے پہلے سنو اسکینگ فیسٹیول میں مقامی کھلاڑیوں کے علاوہ سوات، گلگت، اسلام آباد، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی سنو سکینگ کھلاڑیوں اور چیمپٔنز نے حصہ لیا اور تماشائیوں کو محظوظ کیا۔

اس خوبصورت کھیل میں چار کیٹیگریوں پر مشتمل کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ آٹھ سے بارہ سال جن میں نذیر احمد نے اول پوزیشن حاصل کی روح الامین نے دوسری اور مرتضےٰ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

تیرہ سے سولہ کے کھلاڑیو ں میں عباد الرحمان نے اول، عماد حسین نے دوسری جبکہ انعام اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

سولہ سے پچیس سال کے عمر کے کھلاڑیوں میں عاشق حسین نے پہلی پوزیشن، واصف علی نے دوسری جبکہ سلطان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

پچیس سے پچپن سال کے عمر کے کھلاڑیوں میں عبد الحفیظ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، برہان نے دوسری اور سید جعفر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

شہزادہ سکندر الملک جو چترال پولو ایسوسی ایشن کا صدر بھی ہے نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ میں صوبائی ٹورزم تھنک ٹینکر کا رکن بھی ہوں مگر مجھے حیرانگی اس بات پر ہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سیاحت کو فروغ دیں گے اور چترال سب سے اول نمبر پر ہے مگر دوسری طرف اس دلچسپ کھیل میں کسی نے شرکت بھی نہیں کی اور نہ کوئی فنڈ فراہم کیا۔

ہندوکش سنو سپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ حشا م الملک نے کہا کہ یہ کھیل پچھلے سو سالوں سے یہاں کھیلا جاتا ہے مگر اسے باقاعدہ طور پر ایک تہوار کے طور پر کبھی نہیں منایا گیا تھا، ہم نے پہلی بار اسے منظم طریقے سے منایا جس میں ملک بھر کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور چترال کے جن علاقوں میں بھی سنو سکینگ کی گنجائش موجود ہیں ہم ضرور وہاں یہ کھیل کھیلیں گے اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی روشناس کرایں گے۔

بریگیڈئیر آفندی کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے سنو سکینگ کھیل رہے ہیں مگر یہاں آکر حیرانی کی انتہاء نہ رہی کہ یہ خطہ قدرتی طور پر اس کھیل کیلئے نہایت موزوں ہے ۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ یا گیسٹ ہاؤس نہیں ہے مگر تین سو مہمانوں کو مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں رکھ کر مہمان نوازی کی مثال قائم کی۔

چند بچیو ں نے بھی اس کھیل میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ پہلی بار یہاں کی بچیاں بھی سنو سکیگ میں حصہ لے رہے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ آئندہ بھی لڑکیوں کے لیے سنو سکینگ کھیلنے کا اہتمام کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں