دادو : سندھ کے ‘مری’ گورکھ ہل اسٹیشن پر 13 سال بعد برف باری کے بعد درجہ حرارت منفی 4 سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے مشہور ترین سیاحتی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر موسم سرما کی پہلی برف باری نے جہاں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، وہاں سردی کی شدت میں بھی تاریخی اضافہ ہو گیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مقام پر تقریباً 13 سال کے طویل وقفے کے بعد باقاعدہ برف باری ریکارڈ کی گئی اور برف باری کے بعد گورکھ ہل اسٹیشن کا درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے جبکہ پانی کی لائنوں میں پانی جم گیا۔
ضلع دادو میں کیرتھر کے پہاڑی سلسلے پر واقع یہ مقام جو سطح سمندر سے 5,688 فٹ کی بلندی پر ہے، اس وقت سفید چادر اوڑھے ہوئے ہے، جس سے مناظر انتہائی سحر انگیز اور دلکش ہو گئے ہیں۔
برف باری کی خبر پھیلتے ہی سندھ بھر خصوصاً کراچی، حیدرآباد اور دادو سے سیاحوں کی بڑی تعداد نے پہاڑی مقام کا رخ کر لیا ہے۔
شدید سردی اور برف باری کے پیشِ نظر انتظامیہ نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے خیموں میں قیام پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پہاڑی راستوں پر برف کی وجہ سے پھسلن کے باعث ڈرائیوروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گورکھ ہل اسٹیشن وادیٔ مہران کا واحد بلند ترین مقام ہے جہاں موسم سرما میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے۔ یہاں برف باری روزانہ کا معمول نہیں ہے بلکہ کئی برسوں کے وقفے کے بعد ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس بار کی برف باری نے مقامی لوگوں اور سیاحوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


