The news is by your side.

Advertisement

مفت کھانا مانگنے پر سوشل میڈیا اسٹار کی بے عزتی

ایک برطانوی سوشل میڈیا انفلوئنسر کو اس وقت سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب مفت کھانے کے بدلے ریستوران کی تشہیر کی پیشکش کرنے پر ریستوران انتظامیہ نے انہیں پولیس اسٹیشن کا راستہ دکھا دیا۔

لندن سے تعلق رکھنے والے انفلوئنسر کرسٹوفر جیسی اپنے انسٹاگرام پر 50 ہزار فالوورز رکھتے ہیں اور اکثر و بیشتر مختلف کمپنیوں کی تشہیر کرتے رہتے ہیں۔

کچھ دن قبل انہوں نے فور لیگز نامی ایک ریستوران کو اپنے مطلوبہ کھانے کے بارے میں بتاتے ہوئے پیشکش کی کہ وہ ان کی تشہیر اپنے سوشل میڈیا پر کریں گے۔

ریستوران کی جانب سے ان کی پیشکش پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ایڈریس بتایا گیا کہ وہ وہاں سے اپنے پارسل پک کرلیں۔

کرسٹوفر جب مطلوبہ مقام پر پہنچے تو ریستوران کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ سامنے موجود پولیس اسٹیشن میں چلے جائیں اور خود کو ہاسپٹیلٹی انڈسٹری کے خلاف جرم کا مرتکب قرار دے کر رپورٹ کریں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Four Legs (@fourlegs_ldn)

بعد ازاں اس ریستوران نے کرسٹوفر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کردیے۔

انفلوئنسر نے ریستوران انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں یہ پیشکش پسند نہیں آئی تھی تو وہ اس سے انکار کرسکتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں