The news is by your side.

Advertisement

پُش اپس پر پابندی، عوام کی حکمرانوں پر تنقید

کراچی: قومی اسمبلی میں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر تشویش اور پابندی کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عوام کی جانب سے حکومت اور اراکین اسمبلی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے پُش اپس لگانے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر پابندی کے احکامات دئیے۔

قائمہ کمیٹی کے اس مطالبے پر کرکٹ شائقین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حکومت کے خلاف اور کھلاڑیوں کی حمایت میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

نوید احمد ملک کا کہنا ہے کہ ’’جو لوگ پش اپس کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں وہ بے شرم ہیں، ایسے لوگوں کو جمہوریت کا معلوم ہی نہیں ہے‘‘۔

ایک اور شخص نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج پش اپس روک کر نوافل کی ادائیگی کا مشورہ دیا جارہاہے کل نوافل اور سجدے کرنے پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی‘‘۔


رافع مرزا کا کہنا ہے کہ ’’حکومت نے کھلاڑیوں کے پش اپس پر پابندی لگا کر کامیاب آپریشن کیا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے‘‘۔

فاروق صدیقی کا کہنا ہے کہ ’’دوسروں کو اندھیروں میں دھکیلنے والے نام نہاد جمہوری لوگ اپنی اس حرکت پر شرمند تک نہیں، کیا یہی جمہوریت ہے؟‘‘۔

شاداب خان نام کی آئی ڈی استعمال کرنے والے نے حکومت کے پش اپس پر پابندی کے خلاف ایک تصویر ٹوئیٹ کی جس میں امریکی صدر بارک اوباما کو پش اپس لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

عمر حیدر کہتے ہیں کہ ’’پش اپس سے اتنا خوف کیوں ہے یہ توپ کے گولے نہیں ہیں‘‘۔

طیبہ خانم نے پابندی پر ایک شعر ٹوئٹ کیا جس میں لکھا ہے ’’بڑا شیر بنا پھرتا ہے، جو پُش اپس سے ڈرتا ہے‘‘۔

عبدالقادر نے اپنے ٹوئٹ میں ایک تصویر شیئر کی جس کے ساتھ انہوں نے تحریر کیا کہ ’’انگلش کمنٹیٹر پُش اپس لگا کر جمہوریت کے خلاف سازش کررہا ہے‘‘۔


ایک اور صارف نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’سُناہے کہ نوجوانوں میں دو نومبر والے دھرنے میں پش اپس کا مقابلہ منعقد کیا جائے گا‘‘۔


احسان محمود نے طنزیہ ٹوئٹ میں کہا کہ ’’جمہوریت کے خلاف ایک اور سازش ناکام کرکٹ بورڈ نے پارلیمنٹ کے حکم پر کھلاڑیوں کے پُش اپس پر پابندی لگا دی‘‘۔


جویریہ صدیقی نے قائمہ کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ ’’61 جنازے اٹھ گئے جمہوریت کو خطرات لاحق نہیں‌ہوئے مگر دو چار پُش اپس جمہوریت ہلا گئے ‘‘.


واضح رہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں تاریخی جیت کے بعد مصباح الحق کے پش اپس ٹرینڈ بن گئے ہیں۔ان کے پش اپس اتنے ہٹ ہوئے کہ لارڈز ٹیسٹ جیتنے پر پوری ٹیم نے تاریخی پش آپس لگائے۔

پڑھیں: قومی اسمبلی نے کرکٹ کھلاڑیوں کے پش اپس پرپابندی لگادی

دوسری جانب اس کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر صوبائی وزیر کھیل سندھ نے سردار محمد بخش مہر نے پنجاب حکومت کے وزراء کو فٹنس چیلنج دیتے ہوئے 50 پش اپس لگائے تھے بعد ازاں مسلم لیگ کے رہنماؤں طلال چوہدری اور عابد شیر علی نے چلینج قبول کر کے وزیر اعلیٰ سندھ کو 500 پش اپس لگانے کا کہا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں