ہفتہ, جولائی 11, 2026
اشتہار

بے رحم وقت کی کتھا

اشتہار

حیرت انگیز

اگر میں اپنے بچپن کے دنوں کا اپنے حال سے موازنہ کروں تو بہت ساری دوسری باتوں میں سے ایک جو مجھے پریشان کرتی ہے وہ ہے وقت کا ضیاع۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1982ء کے کراچی میں سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی بازار سمٹنا شروع ہو جاتے تھے، حتیٰ کہ گلی محلّے کی دکانوں کے اوقات بھی جیسے کسی ان لکھے قانون کی پیروی کرتے تھے۔ شام سات بجے الیکٹریشن، پلمبر گھروں کو جانے لگتے اور اس کا سامان فروخت کرنے والے دکان دار بھی انہی اوقات میں‌ سب کچھ سمیٹتے ہوئے حد سے حد آدھے گھنٹے میں شٹر گرا دیتے تھے۔ ان کے بعد نائی، دودھ والے اور پرچون کی دکانوں والے سامان سمیٹتے نظر آ رہے ہوتے تھے اور رات آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان یہ سب دکانیں بھی تقریباً بند ہو چکی ہوتی تھیں۔

رات 9 بجے کے بعد آپ کو زیادہ تر علاقوں میں صرف ہوٹل، فارمیسی اور پان سگریٹ کی دکانیں ہی کھلی نظر آتی تھیں اور ان کا بھی زیادہ سے زیادہ وقت گیارہ سے ساڑھے گیارہ بجے تک کا ہوتا تھا۔ عمومی طور پر لوگ رات 9 بجے کے بعد کسی اشد ضرورت کے بغیر گھروں سے نکلنا پسند نہیں کرتے تھے۔ گیارہ بجے تک ٹی وی کی نشریات بند ہو جاتی تھیں جو کہ تقریباً ہر گھر میں ایک طرح کا اعلان ہوتا تھا کہ سب اپنے بستروں کا رخ کریں۔ گلی محلوں میں اگر کہیں بزرگوں کی بیٹھک لگتی بھی تھی تو وہاں سے بھی گھر کے بزرگوں وغیرہ کی واپسی گیارہ بجے تک متوقع ہوتی تھی۔

لیکن آج تو ایسا لگتا ہے جیسے زندگی شروع ہی سورج غروب ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ دکانیں، ہوٹل اور شورومز وغیرہ رات گئے تک کھلے رہتے ہیں۔ آپ آدھی رات کو بھی اپنی گلی میں موٹر سائیکلوں کی آمد و رفت سن رہے ہوتے ہیں۔ پہلے لوگ رات کا کھانا 9 بجے تک کھا لیا کرتے تھے جب کہ آج مڈ نائٹ ڈیلز کا انتظار کیا جاتا ہے کہ جب شروع ہوں گی تو کھانا آرڈر کیا جائے گا۔ اکثر مرد دفاتر سے گھر کے لیے روانہ ہی 8 بجے کے بعد ہوتے ہیں کہ سڑکوں پر رش کم ملے۔

چالیس سال پہلے کے کراچی اور آج کے اس جاگتے ہوئے شہر میں فرق صرف دکانیں کھلنے یا بند ہونے کا نہیں، بلکہ ترجیحات اور انسانی رویوں کا بھی ہے۔ اس دور میں راتیں تاریک اور پُرسکون ہوتی تھیں، جن میں نیند کا ایک تقدس تھا۔ صبح کا آغاز پرندوں کی چہچہاہٹ اور فجر کی اذان کے ساتھ ہوتا تھا، اور پورا محلّہ ایک ساتھ بیدار ہوتا تھا۔ آج ہم نے رات کو دن تو بنا لیا ہے، لیکن اس مصنوعی روشنی میں ہم نے وہ سکون کھو دیا ہے جو رات کی تاریکی کے دامن میں میسر تھا۔ پہلے وقت میں برکت تھی؛ چوبیس گھنٹے آج بھی ہوتے ہیں، لیکن تب آٹھ گھنٹے کی نیند، نوکری، گھر والوں کے ساتھ بیٹھک، دوستوں سے ملاقات اور کتاب خوانی کے لیے بھی وقت نکل آتا تھا۔ آج سارا دن اسکرینوں پر انگلیاں چلاتے اور "مصروف” رہتے ہوئے بھی دن کے اختتام پر ہاتھ خالی محسوس ہوتے ہیں۔

پہلے دور کا انسان وقت کا مالک تھا، وہ جانتا تھا کہ کب رکنا ہے اور کہاں حد قائم کرنی ہے۔ آج کا انسان وقت کے دھارے میں بہتا ہوا ایک ایسا مسافر بن چکا ہے جس کی زندگی میں "توقف” (Pause) کا بٹن غائب ہے۔ ہم نے ترقی کے نام پر دکانیں تو چوبیس گھنٹے کھول لیں، لیکن اپنے ہی گھر والوں کے لیے دلوں کے دروازے بند کر دیے۔

سچ تو یہ ہے کہ وقت بے رحم نہیں تھا، بے رحم ہم خود ہو گئے ہیں جنہوں نے فطرت کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اگر ہم آج بھی اپنے کل کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں زندگی کی اس اندھی دوڑ میں کہیں نہ کہیں بریک لگانی ہوگی۔ بازاروں کو تو شاید ہم جلد بند نہ کروا سکیں، لیکن اپنے گھروں، اپنی اسکرینوں اور اپنی بے ہنگم خواہشات کو ایک ان لکھے قانون کا پابند ضرور بنا سکتے ہیں، تاکہ زندگی میں وہی کھوئی ہوئی برکت اور تھوڑا سا سکون لوٹ آئے۔

اہم ترین

مزید خبریں