The news is by your side.

Advertisement

سماجی رہنماؤں کا میانمار فوجیوں کے خلاف امریکی اقدامات کا خیرمقدم

ڈھاکا: سماجی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے فوجیوں کے خلاف امریکی اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے میانمار فوج کے سربراہ سمیت تین عسکری عہدیداروں پر پابندی عاید کی ہے جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے کو سراہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روہنگا مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے کسی فوجی کے خلاف میانمار میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اس تناظر میں امریکی فیصلہ اہم ہے۔

ادھر میانمار کی روہنگیا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی کارکن وائی وائی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے میانمار کی اعلیٰ عسکری قیادت پر پابندیاں خوش آئند ہیں مگر ابھی رہنگیا مسلمانوں کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میانمار میں کئی دہائیوں سے جاری آمرانہ فوجی ادوار کے محاسبے کی سخت ضرورت ہے، میانمار میں موجود بہت سے افراد امریکا کی جانب سے جرنیلوں پر پابندی کے فیصلے کو سراہتے ہیں مگر ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس پہلے قدم کے مزید پختہ اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے۔

روہنگیا نسل کشی، میانمار کے فوجی سربراہ پر پابندی عاید کردی گئی

سماجی کارکن نے مزید کہا کہ میرا ماننا ہے کہ برما میں معاملات کے حل کے لئے جرائم ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئیے ہے اور اقلیتوں کے خلاف نسلی اور مذہبی تعصب کو یکسر ختم کر دینا چاہئیے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں