تحریر: عمران الرحمٰن
ہمارے معاشرے میں صدیوں سے ایک بحث چلی آ رہی ہے کہ "عقل بڑی ہے یا بھینس؟” بھینس کا تو پتہ نہیں، لیکن عقل کے ساتھ ہم نے جو کھلواڑ کیا ہے وہ اب ایک بالکل نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اب سوال عقل اور بھینس کا نہیں رہا، بلکہ المیہ یہ ہے کہ اجداد کے دور میں جو مکالمہ "دلیل” سے شروع ہوتا تھا، وہ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں محض دو منٹ کے اندر "گالی” پر جا کر دم توڑ دیتا ہے۔ دلیل سے گالی تک کا یہ سفر اتنی تیز رفتاری سے طے ہوتا ہے کہ عقل ہائی وے پر کھڑی بس منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔
پرانے وقتوں میں اگر دو مہذب لوگوں میں اختلاف ہوتا تھا تو وہ منطق، شواہد اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پھر زمانہ بدلا، اور ہم نے دلیل کی جگہ "صدا بلند” (یعنی جو جتنا اونچا بولے گا، وہی سچا ہے) کا اصول اپنایا۔ لیکن جدید دور، خصوصاً سوشل میڈیا کے انقلاب نے تو کمال ہی کر دیا۔ اب اگر آپ کسی محفل یا انٹرنیٹ کی کسی پوسٹ پر کسی سے اختلاف کرنے کی "جراتِ رندانہ” کر بیٹھیں، تو سامنے والا آپ کی عقل کو چیلنج کرنے کے بجائے سیدھا آپ کے شجرۂ نسب اور خاندانی پس منظر پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ دلیل دینا اب ایسا ہی ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا، اور فرق صرف اتنا ہے کہ اب بھینس بین سن کر سر نہیں دھنتی بلکہ سیدھا سینگ مار دیتی ہے۔
اس معاشرتی گراوٹ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آج ہر شخص خود کو "عقلِ کل” سمجھتا ہے۔ چائے کے ہوٹل سے لے کر ٹویٹر (X) کے ٹرینڈز تک، ہر کوئی ارسطو اور افلاطون کا سچا جانشین بنا بیٹھا ہے۔ جب دو ایسے "مفکرین” آمنے سامنے آتے ہیں جن کے پاس معلومات تو وافر ہوتی ہے مگر برداشت کا تالاب بالکل سوکھا ہوتا ہے، تو وہاں عقل اور دلیل سسکیاں لینے لگتی ہیں۔ آغاز انتہائی شائستہ الفاظ سے ہوتا ہے جیسے "محترم، میری عقل کے مطابق آپ غلط ہیں…” اور چند ہی سیکنڈز میں یہ شائستگی اڑن چھو ہو جاتی ہے اور گفتگو "تمہاری جرأت کیسے ہوئی…” سے ہوتی ہوئی ان الفاظ پر جا رکتی ہے جنہیں سنسر کرنا پڑتا ہے۔
مزاحیہ صورت حال تو تب پیدا ہوتی ہے جب گالی گلوچ کرنے والا بھی یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس نے بہترین "دلیل” دے کر سامنے والے کو لاجواب کر دیا ہے۔ اب فتح کا معیار یہ نہیں رہا کہ آپ نے کتنی منطقی بات کی، بلکہ معیار یہ ہے کہ آپ نے سامنے والے کو کتنا لاجواب (یا یوں کہیے کہ کتنا بے عزت) کیا۔ عقل تو خیر کب کی بھینس کے آگے گھٹنے ٹیک چکی، مگر اب دلیل بھی گالی کے سامنے پناہ مانگتی نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم نے تہذیب کی کتاب کے سارے صفحات پھاڑ کر ان کے ہوائی جہاز بنا کر اڑا دیے ہیں۔
اس صورت حال پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے مگر لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آ ہی جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے ہجوم میں تبدیل ہو رہے ہیں جہاں سوچنے، سمجھنے اور دوسرے کی بات سننے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم نے دلیل کا دامن چھوڑ کر گالی کو ہی اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنائے رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب عقل اور بھینس دونوں مل کر ہم پر ہنسیں گی اور کہیں گی کہ "ہم تو خواہ مخواہ ہی بدنام تھیں، اصل کھیل تو کوئی اور ہی کھیل گیا!” بلاشبہ، معاشرے کی بقا اسی میں ہے کہ ہم گالی کے اس تیز رفتار سفر کو بریک لگائیں اور دوبارہ دلیل کی اس دھیمی اور پروقار گاڑی میں سوار ہوں جہاں عقل کو بھینس سے بڑی عزت ملتی تھی۔


