امریکی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ روزانہ سافٹ ڈرنکس (سوڈے کے میٹھے مشروبات) کا استعمال مردوں اور خواتین دونوں میں بانجھ پن کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔
طبی جریدے ایپیڈیمیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی اور خوراک انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، جو نہ صرف مجموعی صحت بلکہ والدین بننے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں نے امریکا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 21 سے 45 سال کی عمر کی 3828 خواتین اور ان کے شوہروں کو ایک سروے میں شامل کیا۔
سروے میں دونوں فریقین کے طرز زندگی، غذا اور میڈیکل ریکارڈ کی جانچ کی گئی۔ خواتین سے ہر دو مہینے کے بعد ایک سوالنامہ بھروایا گیا۔ اس میں خواتین کے حاملہ ہونے کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔
12 ماہ جائزہ لینے کے بعد ماہرین نے بتایا کہ سافٹ ڈرنک کی زائد مقدار لینے والے مردوں اور خواتین میں والدین بننے کا امکان ماہانہ بنیاد پر 20 فیصد کم ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 50 برس میں عام امریکیوں کے کھانوں میں شکر کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں میٹھے کاربونیٹڈ مشروبات شامل ہیں۔
سافٹ ڈرنکس کے زیادہ استعمال سے لوگوں کا وزن تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ذیابیطس جیسے امراض میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس مرد و خواتین کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جس کے باعث حمل ٹھہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


