وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات پر پابندی ہٹادی جائے تو لانگ مارچ کی کال واپس لی جاسکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان سے فیملی، وکلا اور ڈاکٹر کی ملاقات ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی پیغام سامنے آئے گا پھر ان کی ہدایات پر چلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو 27 ستمبر کو سب سے پہلا مطالبہ ہمارا عمران خان کی رہائی ہے جو عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگی، عدالت میرٹ پر کیسز سنیں تو آدھے گھنٹے میں وہ جیل کے باہر ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے مجھے فیملی اور بشریٰ بی بی کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے، میں نے سلمان اکرم راجہ سے بات کی کہ پوچھیں لیکن ابھی تک کچھ علم نہیں ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان جب جیل گئے تو ان کی صحت بالکل ٹھیک تھی، صحت کے حوالے سے جتنے بھی مسائل آئے ہیں اس حکومت نے اس سے انکار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ اگر ان کی صحت کے مسائل ہوتے ہیں تو قوم حکمرانوں سے پوچھے گی۔


