اسلام آباد (14 فروری 2026): وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قدم کے لیے خیبرپختونخوا، پی ٹی آئی اور پاکستان کے عوام تیار ہیں۔
دھرنا گاہ میں سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی بینائی متاثر ہونے کا دعویٰ کیا اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا، انھوں نے کہا بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور ان کی آنکھ کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی بینائی تقریباً 15 فی صد رہ گئی ہے جب کہ 85 فی صد متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 16 فروری تک علاج کرانے کے احکامات جاری کیے ہیں اور امید ہے کہ ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ معاملہ یہاں تک کیوں پہنچا اور اتنی لاپرواہی کیوں برتی گئی، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال پارٹی کی تمام توجہ بانی پی ٹی آئی کے بہترین علاج پر مرکوز ہے، جب تک فیملی اور پارٹی قیادت کارکنوں کو اعتماد میں نہیں لے گی، اس وقت تک کارکن اپنے لیڈر کے علاج پر فوکس رکھیں گے۔
پی ٹی آئی جلد پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئے گی ، فیصل واوڈا کا انکشاف
انھوں نے بتایا کہ پارٹی چیئرمین، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور دیگر قیادت رابطے میں ہیں، تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا ہے یا نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ واضح اور مستند خبر سامنے آنے کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قدم کے لیے وہ اور ان کی جماعت تیار ہے جب کہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام بھی تیار ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر اعلیٰ عدلیہ پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔


