The news is by your side.

Advertisement

شاہراہ فیصل پولیس مقابلہ بھی جعلی نکلا، وزیرداخلہ کی تصدیق

کراچی: وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ شاہراہ فیصل پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا شخص مقصود بے گناہ تھا، لواحقین جیسے کہیں گے اٰسی طریقے سے تحقیقات کروائی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ سندھ شاہراہ فیصل پر مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان مقصود کے گھر پہنچے اور انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ شاہراہ فیصل پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا نوجوان مقصود بے گناہ تھا اس لیے اُسے شہید سمجھتا ہوں، جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی ہدایت کردی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مقصود کے اہل خانہ جس طریقے سے چاہیں گے ویسے ہی تحقیقات کی جائیں گی، لواحقین نے سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا جس کو جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: حساس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے ، راوٴ انوار کا مطالبہ

وزیرداخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ تواتر کے ساتھ افسوسناک واقعات رونما ہورہے ہیں جو قابل افسوس ہیں مگر پولیس جان بوجھ کر کسی کو قتل نہیں کرتی، تفتیشی افسر جب مناسب سمجھے گا واقعے کی ویڈیو ریلیز کردے گا۔

سہیل انوار سیال کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ حکومت راؤ انوار یا پھر کسی بھی پولیس افسر کو بچانے میں لگی ہوئی ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ ہم ایسے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے۔

وزیرداخلہ سہیل انورسیال کی لائنز ایریامیں مقصودکےگھر آمد کے موقع پر پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں کے درمیان بدمزگی اور شدید جھگڑا ہوا، ذرائع کے مطابق مقامی رہنما ذوالفقار قائم خانی کو مقتول کے گھر میں داخلہ نہ ملنے کے بعد شروع ہوا۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: انتظارقتل کیس: شام تک نتیجے پر پہنچ جائیں گے، سی ٹی ڈی کا دعویٰ

نوجوان کی مبینہ ہلاکت کو سوشل میڈیا پر شور اٹھا اور مظاہرے شروع ہوئے تھے، بلاول بھٹو نے وزیرداخلہ سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی ملیر سے انکوائری کی۔

اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم نے راؤ انوار کو عہدے سے برطرف کرنے اور نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں برطرف کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 14 جنوری 2018 کو ڈیفنس کے علاقے میں انتظار کی کار کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ ایک لڑکی کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے، واقعے میں کار میں موجود لڑکی محفوظ رہی جس کی شناخت بعد ازاں مدیحہ کیانی کے نام سے ہوئی۔

سی سی ٹی وی فوٹیجز سے معلوم ہوا کہ انتظار کی گاڑی کو دو موٹر سائیکل سوار افراد نے نشانہ بنایا جب کہ اے سی ایل کی موبائل بھی ساتھ تھی جس کے بعد اے سی ایل ایس کے اہلکاروں کو گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں