The news is by your side.

Advertisement

سورج گرہن کےدوران کی جانے والی عبادت اور احتیاطی تدابیر

کراچی: دنیا بھر میں رواں سال کا آخری سورج گرہن کل ہوگا جو پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بھی دیکھا جاسکے گا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق پاکستان میں سورج گرہن کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 7بج کر 30منٹ پرہوگا اور 8 بج کر 37 منٹ پر یہ اپنے عروج کو پہنچے گا۔

ماہرین کے مطابق دن کے وقت میں اندھیرا ہوجائے گا کیونکہ چاند سورج کے بالکل آگے آجائے گا جس کی وجہ سے اُس کی روشنی کم پڑ جائے گی۔ رواں سال سورج گرہن کو رنگ آف فائرکا نام دیاگیا ہے جسے گزشتہ دس سال کا سب سے طاقتور ترین قرار دیا جارہا ہے۔

ماہرین فلکیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ گرہن لگنے کے دوران سورج کا براہ راست نظارہ نہ کریں کیو نکہ اس سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے۔

اسلامی احکامات

صحیح بخاری میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے سورج گرہن کے وقت نماز کسوف ادا کرنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

بخاری: (1059) اور مسلم:  (912) میں ابو موسی رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ : “ایک بار سورج گرہن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  گھبرا کر کھڑے ہوئے کہیں قیامت قائم نہ ہو گئی ہو! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور خوب لمبے قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز  پڑھائی، میں نے اس سے پہلے آپ کو کبھی اتنی لمبی نماز پڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (اللہ تعالی کی طرف سے ارسال کردہ یہ نشانیاں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے رونما نہیں ہوتیں، البتہ اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، چنانچہ اگر تمہیں اس قسم کی کوئی نشانی نظر آئے تو فوری طور پر ذکر الہی، دعا اور استغفار میں مگن ہو جاؤ)”

نماز کسوف

نماز کسوف باجماعت ادا کی جاتی ہے، جس میں دو رکعات ہوتی ہیں اور یہ سورج گرہن شروع ہونے سے اختتام تک جاری رہتی ہے، اس میں قیام ، رکوع ، سجود اور دیگر اراکان کو طویل کرنے کا حکم دیا گیا۔

 مسلم:  (911)- سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیشک سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالی ان دونوں کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یقینی بات ہے کہ یہ دونوں کسی شخص کی موت  پر گرہن نہیں ہوتے، چنانچہ جب بھی تم ان میں سے کسی کو گرہن لگتا ہوا دیکھو تو اتنی لمبی نماز پڑھو اور اللہ تعالی سے دعا کرو یہاں تک کہ تم اپنی معتدل حالت میں آ جاؤ‘‘۔

نماز کسوف کا طریقہ

نماز کسوف کے اس طریقے کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری: (1046) اور مسلم: (2129) میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد چلے گئے اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور پھر لمبی قرأت فرمائی، پھر آپ نے تکبیر کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ۔۔۔” کہا اور کھڑے رہے سجدہ نہیں کیا ، پھر آپ نے دوبارہ لمبی قرأت فرمائی لیکن یہ پہلی قرأت سے قدرے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ تکبیر کہتے ہوئے لمبا رکوع کیا تاہم یہ پہلے رکوع سے کم لمبا تھا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ” کہا ۔

پھر آپ ﷺ سجدے میں چلے گئے اور پھر دوسری رکعت بھی بعینہٖ اسی انداز سے پڑھائی۔

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے [دو رکعت نماز میں] چار رکوع اور چار سجدے فرمائے “

نماز کسوف کی باجماعت ادائیگی

امام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں جن میں بہت لمبی قرأت ہو اور ہر رکعت میں رکوع سجدے بھی خوب دیر تک ہوں، دو رکعتیں پڑھ کر قبلہ رُو بیٹھے رہیں اور سورج صاف ہونے تک اللہ تعالیٰ سے عافیت اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے رہیں۔

علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سورج گرہن قدرت کی نشانیوں میں سے ایک ہے،حضور صلی اللہ و علیہ وسلم سورج گرہن کےدوران نوافل ادا کرتے تھے۔ اس ضمن میں  کراچی کی مختلف مساجد اور عوامی مقامات پر نماز کسوف کے اجتماعات کا انعقاد کیا گیا ہے۔

سورج گرہن کے نقصانات

سورج گرہن کا سب خطرہ آنکھوں کو ہوتا ہے کیونکہ گرہن لگنے کے دوران سورج سےانفراریڈ، الٹراوائیلٹ نامی سرخ شعاعیں نکلتی ہیں جو انسانی آنکھ کو بہت زیادہ متاثر کرتی اور اس سے قرنیہ ہمیشہ کے لیے متاثر ہوتا ہے۔

سورج گرہن کے دوران شعاعیں آپ کے قرنیہ اور ریٹنا کو جلا سکتی یا بھاپ پیدا کرسکتی ہیں جس سے انکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سورج گرہن کو دیکھا جاسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق جب تقریبا مکمل سورج گرہن ہو یا اندھیرا ہوجائے تو آپ تھوڑی دیر کے لئے سورج کو دیکھ سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر

کمسن اور شیر خوار بچوں کو کمروں میں رکھیں

گھر سے بلا ضرورت باہر نہ نکلیں اور مجبوری کی حالت میں کوئی سن گلاسز، گاگلز لگائیں تاکہ شعاعوں سے محفوظ رہ سکیں

سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے بغیر فلٹر کے دوربین ہرگز استعمال نہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں