ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

آج ہونے والے سورج گرہن میں کیا خاص بات؟ پاکستان میں دیکھا جاسکے گا؟

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : دنیا بھر میں آج ہونے والے سورج گرہن کو ‘رِنگ آف فائر’ کا نام دیا گیا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ‘رِنگ آف فائر کیا ہوتا ہے؟

تفصیلات کے مطابق آج سورج گرہن کا دلکش فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا جب چاند سورج اور زمین کے درمیان حائل ہو جائے گا۔ تاہم یہ مکمل گرہن نہیں ہوگا۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ ’’اینولر‘‘سورج گرہن ہے ، اینولر گرہن کےدوران چاندسورج کےعین وسط کوڈھانپ لےگا اور سورج کابیرونی حصہ روشن دائرے کی صورت دکھائی دے گا۔

اس منظر کو عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، جب سورج کے کناروں سے روشنی چھن کر سنہری انگوٹھی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

مکمل گرہن صرف انٹارٹیکا کے چند علاقوں میں دکھائی دے گا، جبکہ جنوبی امریکی ممالک چلی اور ارجنٹائن کے علاوہ جنوبی افریقہ کے بعض حصوں میں جزوی گرہن نظر آئے گا تاہم پاکستان میں یہ گرہن دکھائی نہیں دے گا۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 56 منٹ پر ہوگا، شام 5 بج کر 12 منٹ پر یہ اپنے عروج پر پہنچے گا جبکہ اختتام رات 7 بج کر 28 منٹ پر ہوگا۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھ سے دیکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے خصوصی حفاظتی عینک کا استعمال ضروری ہے۔

سورج گرہن کب ہوتا ہے؟

سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے لیکن چونکہ سورج کا فاصلہ زمین سے چاند کے فاصلے کے مقابلے میں چار سو گنا زیادہ ہے، اس لیے سورج چاند کے پیچھے مکمل یا جزوی طور پر چھپ جاتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں