The news is by your side.

Advertisement

شمسی توانائی کا مستقبل کیا ہے ؟؟ تیل کے ذخائر کو خطرہ مگر کیسے

سالہا سال کی تحریک کے بعد بالآخر اب لگتا ہے کہ شمسی انقلاب روکنا ناممکن ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے مطابق صرف امریکا میں ہی 2008ء سے اب تک شمسی توانائی کی تنصیبات میں 35 گُنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان 2030ء تک تقریباً 10 گیگاواٹ بجلی شمسی توانائی سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگوں کو شک و شبہ ہو، لیکن توانائی کی پیداوار کا مستقبل سورج سے فائدہ اٹھانے میں ہی ہے۔ اس مقام تک پہنچنے میں دنیا کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔ ابتدا میں سست روی سے آغاز کے باوجود اب قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی تیزی سے ہو رہی ہے اور شمسی توانائی تو اپنے زوروں پر ہے۔

اس وقت دنیا کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سے کئی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہیں۔ خوش قسمتی سے شمسی توانائی ان مسائل کا بہترین حل پیش کرتی ہے۔ جیسا کہ تیل اور گیس کے بجائے شمسی توانائی پر منتقل ہونے سے کاربن خارج ہونے میں کمی آئے گی اور یوں موسمیاتی تبدیلی کی رفتار بھی گھٹے گی۔ تیل و گیس پر انحصار کم ہونے سے عالمی تنازعات میں بھی کمی آئے گی جو توانائی وسائل حاصل کرنے کے لیے مسابقت کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ شمسی توانائی غذائی تحفظ کے مسائل کا بھی خاتمہ کر سکتی ہے۔ خشک سالی، سیلاب اور سخت درجہ حرارت، جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہے ہیں، کاشت کاروں کے ذریعہ معاش کو متاثر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہماری فوڈ سپلائی کو بھی۔ اگر کاشت کار شمسی توانائی کی جانب منتقل ہو جائیں تو وہ اپنے کھیت کھلیانوں میں خود بجلی پیدا کر سکتے ہیں اور یوں پانی کی ہمہ وقت دستیابی کے علاوہ کاربن اخراج کو کم کر کے موسمیاتی تبدیلی کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

پینے کے صاف اور محفوظ پانی تک رسائی بھی شمسی توانائی سے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ سائنس دانوں کی ٹیمیں اس وقت ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں جس سے نمکین پانی کو پینے کے قابل بنایا جا سکے، وہ بھی شمسی توانائی کا استعمال کر کے۔

شمسی توانائی کی زبردست پیشقدمی نے کمرشل صارفین کو بھی متحرک کیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ 2015ء تک اب شمسی توانائی میں دو تہائی اضافہ کمرشل کارپوریشنز نے ہی کیا ہے۔ گوگل، ٹارگیٹ، ایپل، فیس بک، ایمیزن اور آئیکیا صرف چند مثالیں ہیں، جنہوں نے شمسی توانائی کو قبول کیا اور اسے آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

کاروباری اداروں کو بخوبی معلوم ہے کہ شمسی توانائی کا انتخاب ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے کیونکہ یہ ان کے کام کو تقویت دیتی ہے اور ماحولیاتی اہداف بھی حاصل کرتی ہے۔ اس طرح وہ بجلی کی کھپت پر آنے والی لاگت کو بھی کم کر سکتے ہیں۔

شمسی توانائی نے ایک طویل سفر کیا ہے، لیکن یہ سفر ابھی تھما نہیں ہے۔ سائنس دان نت نئی جدت کے ذریعے اس صنعت کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں شمسی صنعت نے ٹرانسپورٹیشن کے شعبے پر بہت توجہ دی ہے۔ گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں شمسی توانائی کے استعمال کے تجربات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں اور راستوں سے بھی شمسی توانائی حاصل کرنے کے اہداف بنائے گئے ہیں، جن پر سائنس دان کام کر رہے ہیں۔

مسلسل تحقیق کا نتیجہ شمسی توانائی کی لاگت میں کمی کی صورت میں نکلا ہے۔ صرف ایک دہائی میں ہی لاگت میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے اور اس وقت شمسی توانائی کا حصول تاریخ کی کم ترین قیمت پر پہنچ چکا ہے۔ ایک طرف کم قیمتیں اور دوسری جانب حکومتوں کی جانب سے رعایتیں بھی شمسی توانائی کو قابلِ رسائی بنا رہی ہیں۔ 2010ء کے بعد قیمتوں میں کمی کا جو رحجان نظر آیا ہے اس کی وجہ سے درمیانی آمدنی والے خاندان بھی اب شمسی توانائی میں اپنا سرمایہ لگا سکتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ تیل، گیس اور کوئلہ محدود وسائل ہیں، بالآخر انہیں ختم ہو جانا ہے۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اگر ہم ان وسائل کی اسی شرح سے استعمال کرتے رہے تو 2050ء تک تیل کی باقی ماندہ سپلائی ختم ہو جائے گی۔ اندازوں کے مطابق تیل اگلے 50 سے 100 سالوں میں ختم ہو جائے گا، یعنی صرف ایک نسل بعد۔ ان ذرائع کے ممکنہ خاتمے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے دنیا کو تیل، گیس اور کوئلے سے شمسی توانائی کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔

غیر معمولی کامیابی کے باوجود شمسی توانائی کے شعبے میں بہتری کی اب بھی گنجائش ہے۔ گو کہ عوام بھی سمجھتے ہیں کہ تیل، کوئلہ اور گیس کے مقابلے میں شمسی توانائی کو ہی ترجیح دینی چاہیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی ان کا زیادہ تر انحصار دیگر ذرائع پر ہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہے شمسی توانائی کے لیے انفرا اسٹرکچر موجود نہیں اور سارا بنیادی ڈھانچہ دراصل دیگر ذرائع کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

سماجی، سیاسی و معاشی رکاوٹیں بھی شمسی صنعت کی نمو میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان رکاوٹوں کے باوجود شمسی انقلاب حقیقت ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہ ہمارا سب سے بڑا توانائی ذریعہ بن جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں