اسلام آباد : حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کا نیا بلنگ نظام متعارف ہونے کے بعد عوام اب بیٹری سسٹم کی جانب جائیں گے۔
یہ بات پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے صدر حسنات احمد نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
حسنات احمد نے کہا کہ اس اقدام سے حکومت پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا اور جو سولرصارفین مہنگے بلوں سے پریشان تھے اب وہ بیٹری سسٹم اپنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت توانائی اور نیپرا کا بجلی کے بلوں کو نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب لے جانے کی وجہ سے اب لوگ سولر سسٹم کی طرف نہیں جائیں گے۔
اس کے علاوہ جو لوگ پہلے سے سولر سسٹم استعمال کررہے ہیں وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اب کیا کیا جائے۔
حسنات احمد نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ وہ نظام تھا جس کے تحت اگر کوئی صارف سولر پینلز کے ذریعے بجلی پیدا کرتا تھا تو اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق یونٹ استعمال کرنے کے بعد باقی بجلی گرڈ کو دے دیتا تھا اور ضرورت پڑنے پر استعمال بھی کرسکتا تھا یعنی اگر صارف نے زیادہ بجلی پیدا کی تو اس کا بل کم ہو جاتا یا بعض اوقات صفر بھی آجاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
سولر صارفین اپنی اضافی بجلی گرڈ کو پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر فروخت کریں گے جبکہ جب انہیں اپنی ضرورت کے لیے بجلی گرڈ سے لینی پڑے گی تو وہی مہنگا ٹیرف ادا کرنا ہو گا جو عام نان سولر صارفین دیتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


