The news is by your side.

Advertisement

مشرق وسطیٰ کے دیرینہ مسائل کے حل کیلئے قضیہ فلسطین کا سیاسی حل ضروری ہے: جیرڈ کشنر

واشنگٹن: امریکی صدر کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیرینہ مسائل صرف اقتصادی روڈ میپ پر عمل کر کے حل نہیں ہو سکتے اس کے لیے قضیہ فلسطین کا سیاسی حل پیش کیا جانا ضروری ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینی صدر محمود عباس کے بہت زیادہ گرویدہ ہیں وہ ان سے امریکی امن تجاویز کے ضمن میں کسی بھی وقت رابطے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے بحرین ورکشاپ کا بائیکاٹ کر کے فاش غلطی کا ارتکاب کیا ہے، امریکی منصوبہ دراصل صدیوں بعد ملنے والا موقع ہے، یہ فلسطینی اور خطے کے عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ ہم فلسطینی اور خطے کے عوام کے لیے تاریخی موقع پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، بعض لوگ بحرین ورکشاپ کو صدی کی بدترین سودے بازی قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ صدیوں بعد آنے والا موقع ہے، اہل اور دلیر قیادت ہی اس موقع سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن اور خوشحالی کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ سب عزت اور احترام سے رہ سکیں۔

اسرائیلی فورسز غزہ پر حملے کیلئے تیار ہیں، تین یاہو کی دھمکی

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ خطے میں نہتے فلسطینیوں پر قابض فوج کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں