کس بچے کو کھانا کھلائیں اور کس کو نہیں؟ صومالی والدین اذیت میں -
The news is by your side.

Advertisement

کس بچے کو کھانا کھلائیں اور کس کو نہیں؟ صومالی والدین اذیت میں

مشرقی افریقی ملک صومالیہ میں شدید قحط کے باعث خوراک کی فراہمی کی مقدار دن بدن گھٹتی جارہی ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو کھانا دینے سے پہلے سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کس بچے کو کھانا دیا جائے اور کس کو نہیں۔

افریقی ملک صومالیہ میں قحط کی صورتحال خطرناک حدوں کو پہنچ گئی ہے۔ ملک کی نصف آبادی یعنی لگ بھگ 62 لاکھ افراد قحط سے متاثر ہیں۔ گزشتہ دو روز میں 110 افراد بھوک کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

قحط کے باعث گھاس خشک ہوچکی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے مویشی بھی بھوک سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ پانی کے ذخائر بھی خشک ہو چکے ہیں۔

پانی کی کمی اور قحط کا شکار صومالی آلودہ پانی پینے پر بھی مجبور ہیں جو لاغر و کمزور صومالیوں کو ہیضے کا شکار کر کے موت کے کنویں میں دھکیل دیتا ہے۔

بھوک اور قحط کی اس صورتحال میں صومالی والدین اپنے بچوں کو خوراک دیتے ہوئے تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں کہ کس بچے کو کھانا دیا جائے اور کس کو نہیں۔

somalia-2

ایک صومالی ماں کا کہنا ہے کہ جب ہمارے پاس کھانے کا بہت کم ذخیرہ ہوتا ہے تو ہم اسے صرف اس بچے کو دیتے ہیں جسے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور جو بھوک سے بالکل بے جان ہوچکا ہوتا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صومالیہ میں ایک بار پھر 2011 جیسا قحط آسکتا ہے جس میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ صومالیہ گزشتہ تقریباً 25 سال سے خانہ جنگی کی زد میں ہے۔ جنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جبکہ صومالیوں کا ذریعہ معاش زراعت بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

چند روز قبل شمالی افریقی ملک جنوبی سوڈان کو بھی قحط زدہ قرار دیا جاچکا ہے۔ سوڈان کی کل 1 کروڑ 13 لاکھ آبادی میں سے 40 فیصد بھوک کے باعث موت کے کنارے کھڑی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے ساتھ ساتھ، نائیجیریا اور مشرق وسطیٰ کا ملک یمن بھی قحط کے دہانے پر ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں