صومالیہ کے وزیر دفاع احمد معلم نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو صومالی لینڈ منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
الجزیرہ سے گفتوگ میں وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو زبردستی صومالی لینڈ منتقل کرنےکا منصوبہ بنایا ہے اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
احمد معلم کا کہنا تھا کہ صومالیہ نے "اطلاع کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو منتقل کرنے اور انہیں [صومالی لینڈ] بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے”۔
ان کے تبصرے صومالی حکام کی طرف سے اس دیرینہ خدشات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے صومالی لینڈ میں زبردستی بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ان رپورٹس کی خود حکومت کرنے والے خطے اور اسرائیل نے تردید کی ہے۔
صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا لیکن اسے کبھی بھی اقوام متحدہ کی منظوری نہیں ملی۔ اسرائیل کے دسمبر کے فیصلے نے صومالی لینڈ کو آزاد تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا۔
چین نے صومالیہ کے ساتھ مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے صومالیہ کے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وانگ یی نے کہا کہ صومالیہ کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا تحفظ اولین ترجیح ہے علیحدگی پسندی کی کسی بھی کوشش کو چین مسترد کر تا ہے، چین افریقہ میں سفارتی تعلقات کو فروغ دیتا رہے گا۔
چین نے صومالی لینڈ اور تائیوان کے مددگار اتحاد کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ان سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کو دہرایا.
اسرائیلی عہدیدار کے صومالیہ کے خطے صومالی لینڈ کے غیرقانونی دورے پر پاکستان سمیت 23 ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
دفترخارجہ کے مطابق 23 ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی عہدیدار کے غیر قانونی دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مشترکہ ردعمل میں اسرائیلی عہدیدار کے دورہ صومالیہ کی خودمختاری وعلاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
23 ممالک میں پاکستان، ترکیہ ، سعودی عرب ، ایران ، عراق ،الجزائر ،بنگلہ دیش،صومالیہ، جبوتی ، گیمبیا، انڈونیشیا، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، مصر، فلسطین، قطر، سوڈان، کاموروس، یمن اور او آئی سی کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں اسرائیلی عہدیدار کے دورہ صومالیہ کی خودمختاری وعلاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیاہے اور کہا گیا کہ یہ غیرقانونی اقدام بین الاقوامی اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کو کمزورکرتا ہے۔



